Al-Risala · February 2000 · page

But, historically, it is debatable.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰

کے لوگ اکٹھا بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ اس طرح چھوت چھات کا ذہن ختم ہوتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے گاؤں کے لوگ یہاں آکر جب ہزاروں لوگوں کو دیکھتے ہیں تو ان کے اندر نیشنل اسپرٹ پیدا ہوتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک بہت بڑے پریوار کے ممبر ہیں۔ وغیرہ باندہ کے ایک صاحب ایک تھیلی لائے تھے۔ انھوں نے اسے دیدی نزل دیش پانڈے کو پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس میں بڑے بڑے پونجی پتیوں کی رقمیں نہیں ہیں۔ بلکہ غریب لوگوں کی محنت کے پیسے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب ہم نے لوگوں کو اکٹھا کر کے کہا کہ ہمیں سرو دھرّم سمبھاؤ سمیلِن کے لئے کچھ دان پیش کرنا ہے۔ تو سب سے پہلے چندہ دینے والا ایک فقیر تھا۔ اس دن اسے بھیک میں دو روپیہ ملے تھے۔ اس نے اپنی جھولی خالی کرتے ہوئے اپنی ساری پونجی ہمیں دے دی، ہم نے کہا کہ تم اس میں سے ایک روپیہ لے لو۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ میں ایک دن بھوکا رہ جاؤں گا۔ دیش کے لئے یہ کوئی بڑی قربانی نہیں۔

بمبئی سے ایک معمر مسلم خاتون مسز لطیفہ قاضی بھی اس اجتماع میں آئی تھیں 4922264)انھوں Tel) انھوں نے بتایا کہ ۱۰ سال پہلے میرے لڑکے ڈاکٹر قاضی سید محمد علی حیدر آباد میں ایم بی بی ایس کے طالب علم تھے۔ انھوں نے حیدر آباد میں آپ کی تقریرسنی۔ اس اس کو سن کر وہ رونے لگے ۔ آپ نے اپنی تقریر میں بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں سے صلح کرنے کے لئے کاغذ سے رسول اللہ کا لفظ مٹا دیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے یہ صاحبزادے اب نیویارک میں ایم ڈی کا کورس کر رہے ہیں۔ ان کا پختہ خیال ہو چکا ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے نہ کہ لڑنے بھڑنے کا مذہب۔

ایک صاحب نے کہا’’جب تک چناؤ کی راج نیتی نہیں آئی تھی دیش میں کوئی مت بھید نہیں تھا۔ ہندو اور مسلمان کے بیچ میں کوئی فرق نہیں تھا۔ الیکشن کی راج نیتی نے سارا معاملہ بگاڑ دیا۔ اجودھیا سے آئے ہوئے سری مہنت رام نے کہا کہ مسلمانوں کے کچھ لیڈر جب نفرت کی بولی بولتے ہیں تو اس کے رد عمل میں فوراً ہند و فرقہ پرستوں کا سنگٹھن ہو جاتا ہے۔ ہم ہندو فرقہ پرستی کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page