But, historically, it is debatable.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
خلا ف ہیں۔ ہم اس سے لڑ رہے ہیں۔ مگر مسلمانوں کے کچھ لیڈر، نفرت کی بولی بول کر ہمارا کام مشکل بنا دیتے ہیں۔
Shri Mahant Ram Kirpal Dass, Sanatan Mandir, Ram Ghat, Ayodhya (Tel. 052876-2137)
ایک مقرر نے بتایاکہ ونوبابھاوے جی نے جے جگت کا نعرہ دیا تھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ دیش کا نعرہ چھوڑ کر سارے جگت کا نعرہ کیوں دے رہے ہیں۔ و نو با جی نے جواب دیا کہ ہماری سوچ عالمی ہونا چاہئے، البتہ ہمارا عمل مقامی اعتبار سے ہونا چاہئے:
We have to think globally but we have to work locally. اجودھیا سے پروفیسر وائی آر ترپاٹھی آئے تھے۔ انھوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ سارے مذہب ایک ہیں۔ مگر یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی، اس لئے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کرسچن لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ہرانسان پاپ کے ساتھ پیدا ہوا ہے۔ دوسری طرف ہندو وید بتاتے ہیں کہ ہر آدمی پر ماتما کا انش کے روپ میں پیدا ہوتا ہے۔ جب مذہبوں کے بیچ میں ایسے اختلافات ہیں تو یہ کہنا کیسے چل سکتا ہے کہ سب مذہب ایک ہیں۔
Prof. Y. R. Tripathi, Principal K. S. Saket Postgraduate College, Ayodhya Faizabad, U.P. (Tel. 0527-814203 (R.)) (05276-2305 O.)
میں نے کہا کہ سارے مذاہب ایک ہیں‘ صرف ایک خیالی فلسفہ ہے۔ وہ کوئی عملی بات نہیں ۔ مذہبی اختلاف کا حل اختلاف کو برداشت کرنا ہے نہ کہ اختلاف کو مٹانا۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کے ایک سابق ہندو استاد نے ۱۹۵۳ کا ایک واقعہ بتایا۔ ایک کانگریس مسلمان جنھوں نے آزادی کی جنگ میں اپنا سب کچھ لٹا دیا تھا۔ آزادی کے بعد وہ لکھنؤ میں پنڈت گووند لبھ پنت (چیف منسٹر) سے ملے۔ انھوں نے پنت جی سے کہا کہ میرے جاننے والے مجھ سے کہتے ہیں کہ تم کو آزادی سے کیا ملا۔ آپ مجھے کم سے کم ایم ایل سی بنا دیجئے ۔ تاکہ میں اپنے لوگوں کو جواب دے سکوں۔ گووند لبھ پنت نے مذکورہ مسلمان سے کہا کہ تم کو ایم ایل سی بنا کر ہم کیا کریں گے۔ ہم کو تو وہ آدمی چاہئے جو ہم کو مسلمانوں کا ووٹ دلائے۔ مذکورہ مسلمان نے کہا کہ پنت جی کے یہ الفاظ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues