But, historically, it is debatable.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
سن کر مجھے ایسا لگا جیسے مجھے آسمان سے زمین پر پٹک دیا گیا ہو۔
موصوف نے کہا کہ میں خود ایک کانگریسی ہوں۔ مگر آزادی کے بعد کانگریسی لیڈروں نے بس ووٹ کو سب کچھ سمجھ لیا۔ یہاں تک کہ لیگیوں اور فرقہ پرستوں سے انھوں نے صرف اس لئے جوڑ پیدا کر لیا کہ وہ انھیں اپنے فرقہ کا ووٹ دلا سکیں گے۔
۳۱ دسمبر کی شام کو منچ پر نواح کے ایک بدھسٹ ڈاکٹر تاشی سامپھل (Tashi Samphel) سے ملاقات ہوئی۔ ان کی عمر ۴۲ سال ہے آج کل وہ سار ناتھ کے تبت انسٹی ٹیوٹ میں استاد ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اسلام میں جس طرح لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ بیسک اصول ہے۔ اسی طرح بدھ دھر م کا بنیادی اصول کیا ہے۔ انھوں نے منکسرانہ انداز میں کہا: سبھی اکشل کرموں کو نہیں کرنا، کشل کرموں کو کرنا۔ اور من کو قابو میں رکھنا۔
ایک صاحب (مسٹر لال) سے ملاقات ہوئی۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، انھوں نے کہا کہ میں کمیونسٹ ہوں۔ اس طرح کمیونزم پر بات چل پڑی۔ پہلے نظریاتی گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ سوویت یونین سے کمیونزم کی ناکامی یہ ثابت کرتی ہے کہ مارکسی نظریہ صحیح نہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ عمل کی ناکامی سے نظریہ کی غلطی ثابت نہیں ہوتی۔ میں نے کہا کہ یہاں مسئلہ سادہ طور پر عملی ناکامی کا نہیں ہے بلکہ ایک مفروضہ کے غلط ثابت ہونے کا ہے۔ مارکس نے کہا تھا کہ انسانی شعور کوئی مستقل چیز نہیں۔ پیداوار اور تبادلہ کا نظام انسانی شعور کی صورت گری کرتا ہے۔ سوویت یونین میں یہ نظام مکمل طور پر بدل دیا گیا۔ مگر انسانی شعور میں مطلق کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ دولت کی حرص، اقتدار پسندی، اغراض کا ٹکراؤ، سب بدستور پوری طرح جاری رہا۔
وہ بحث کرتے رہے۔ پھر میں نے موضوع بدل دیا۔ میں نے کہا کہ بالفرض اگر آپ کمیونزم کی نظریاتی غلطی نہ مانیں تو ایک اور بات تو خالص تاریخی ہے۔ اس کو تو بہر حال آپ کو ماننا پڑے گا۔ وہ یہ کہ کمیونسٹ نظام عملی طور پر چلنے والا (sustainable) نظام نہیں۔ اس کا کھلا ثبوت یہ ہے کہ سوویت سسٹم کسی خارجی حملہ کے بغیر خود اپنی داخلی کمزوریوں کی بنا پر ٹوٹ گیا۔ جب کہ وہ نظام
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues