But, historically, it is debatable.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
جس کو مارکس نے سرمایهدارانہ نظام کہا تھا، وہ رکاوٹوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مزید طاقت کے ساتھ چلا جارہاہے۔ پھر جو نظام سرے سے قابل عمل ہی نہ ہو، اور اگر قابل عمل ہو تو اس وقت جب کہ بد ترین تشدد کے ذریعہ انسانی آزادی کا خاتمہ کر دیا جائے۔ پھر ایسے نظام کو کیا ضرورت۔ ایک ۶۰ سالہ مسلم خاتون سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے شادی نہیں کی ہے۔ انھوں نے ایم اے تک تعلیم حاصل کی ہے اور ایک یونیورسٹی میں ملازم ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ کو کیا تنہائی (loneliness) کا احساس نہیں ہوتا، انھوں نے کہا کہ اب دو تین سال سے ہونے لگا ہے۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ سروس سے ریٹائر ہونے کے بعد یہ احساس اور زیادہ بڑھ جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ کچھ عورتیں گھریلو زندگی کے جھنجھٹ سے بچنے کے لئے شادی نہیں کرتیں۔ جوانی کی عمر میں یہ ایک خوش نما بات دکھائی دیتی ہے۔ مگر جب عمر زیادہ ہوتی ہے تو ایسی زندگی سراپا مسئلہ بن جاتی ہے۔
یہاں تمام آنے والوں کو کھانا کھلایا جارہا تھا۔ اس لئے ان کی تعداد کا قطعی اندازہ کرنا ممکن تھا۔ ۳۱ دسمبر کو معلوم ہوا کہ آنے والوں کی تعداد ۲۰ ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔ دور اور قریب سے کثیر تعداد میں مرد اور عورتیں وسیع پنڈال میں جمع تھے۔ اسٹیج سے اعلان کیا گیا کہ یہاں دیش کے کونے کونے سے لوگ آئے ہوئے ہیں۔ کنیا کماری سے لے کر کشمیر تک کے لوگ یہاں جمع ہیں۔
میں نے ایک صاحب سے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں، دونوں ہی میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ جلسوں اور میلوں میں بھاری تعداد میں آتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی تعداد لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔ اس طرح کے اجتماعات کے بارے میں میرا نظریہ یہ ہے کہ ان کی بہت زیادہ اہمیت نہیں ہوتی۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہر آدمی، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، کسی نہ کسی وجہ سے ٹینشن میں رہتا ہے۔ آجکل چونکہ سفر کے ذرائع بڑھ گئے ہیں، اس بنا پر لوگوں کے لئے اپنے ٹینشن کو ریلیز کرنے کا یہ آسان طریقہ نظر آتا ہے کہ یہاں سے وہاں چلے جائیں۔ چنانچہ ایسا کوئی موقع سامنے آتے ہی لوگ اپنے گھروں سے نکل پڑتے ہیں۔ ان اجتماعات کی حیثیت زیادہ تر آؤٹنگ کی ہے۔ اپنے اپنے ذوق کے مطابق،
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues