But, historically, it is debatable.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰، صفحہ ۱
کوئی مذہبی آؤٹنگ کر رہا ہے، کوئی سیاسی آؤٹنگ، کوئی اور آؤٹنگ۔
مسٹر عبدالمعبود ایم ایس سی (دہلی) سروٹس آف پیپل آف انڈیا سے جڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ سوسائٹی بہت سے رفاہی ادارے (اسپتال، معذوروں کا اسکول وغیرہ) چلاتی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اس طرح کے سماجی خدمت کے ادارے ہندوؤں میں بہت زیادہ ہیں۔ جب کہ مسلمانوں میں ایسے ادارے نسبتاً بہت کم ہیں۔ اور جو ہیں وہ بھی اکثر خراب حالت میں چل رہے ہیں۔ جب کہ ہندوؤں کے ادارے عام طور پر کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔
عبدالمعبود صاحب نے کہا کہ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ ہندو اس کو پن سمجھتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ اگلے جنم میں اس کو اس کا فائدہ ملے گا۔ مگر یہاں یہ سوال باقی رہتا ہے کہ مسلمانوں میں آخرت کا تصور اس سے زیادہ واضح شکل میں موجود ہے۔ پھر آخرت کا تصور ان کے لئے سماجی خدمت کا محرک کیوں نہیں بنتا۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس کا سبب موجودہ مسلم رہنما ہیں۔ موجودہ مسلمانوں میں ایسے لوگ تو بہت اٹھے جنھوں نے کچھ معروف مذہبی شکلوں میں آخرت کا فائدہ بتایا۔ مگر ایسے رہنما سرے سے پیدا ہی نہیں ہوئے جو سماجی اور انسانی خدمت کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بتائیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں مدرسہ اور مسجد جیسے کاموں کی تو خوب دھوم دکھائی دیتی ہے مگر سماجی اور انسانی خدمت والی سرگرمیاں ان کے یہاں بہت کم پائی جاتی ہیں۔
یکم جنوری کی صبح کو بہت سے ہندو میرے کمرہ میں آئے۔ ہر ایک نے کہا: ہیپی نیوایئر، ہیپی نیوایئر۔ میں نے کہا کہ آپ کے لئے بھی (same to you)۔ ایک صاحب نئے سال کی خوشی میں کاجو لا کر دینے لگے، وغیرہ۔
نئے سال کی آمد پر خوشی کا اظہار کرنا یا نہ کرنا بظاہر ایک سادہ سی بات ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ نفسیاتی نقطہ نظر سے یہ ایک بے حد اہم بات ہے۔ نئے سال کا اس طرح استقبال کرنا آدمی کے اندر
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues