Al-Risala · February 2000 · page 2

But, historically, it is debatable.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰، صفحہ ۲

اس نفسیات کو جگاتا ہے کہ گردش زمانہ نے مجھے کام کرنے کا ایک اور سال دیا۔ اس کے برعکس نئے سال کی آمد پر اگر آپ کے احساس کی دنیا میں اس قسم کی کوئی ہلچل نہ پیدا ہو تو آپ کا حال اس کا ہل انسان کا سا ہو جائے گا جس کے اوپر رات کا اندھیرا ختم ہو کر صبح کا اجالا آئے مگر وہ آنکھ بند کئے ہوئے بدستور اپنے بستر پر پڑاسوتارہے ایک بار کھانے کی میز پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ اسلام میں بتایا گیا ہے کہ مومن کا جوٹھا شفاء ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ میڈیکل سائنس کی رو سے آپ اس کو کس طرح اکسپلی کریں گے۔

میں نے کہا کہ یہ سائنسی جملہ نہیں ہے بلکہ نفسیاتی جملہ ہے۔ اس کو لفظی معنی میں لینا درست نہیں۔ مخصوص صورت حال میں جب کہ گلاس ایک ہو اور پانی پینے والے ایک سے زیادہ ہوں تو وہاں کہہ دیا گیا کہ ایک ہی گلاس میں سب لوگ پی لو۔ اس کو مسئلہ نہ بناؤ۔ اس حدیث میں شفاء کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کرنے سے انسانی محبت و اخوت کا جذبہ بڑھے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہ چھوا چھوت کی نفسیات کو ختم کرنے کی ایک بات ہے نہ کہ طبی معنی میں کوئی علاج معالجے کی بات۔ راج کرن سنگھ ایک نوجوان تھے جو بارہ بنکی سے آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ آج کی سمسیا یہ ہے کہ لوگوں کی مانسکتا بدلتی جارہی ہے۔ نئی پیڑھی کے اندر بھلائی اور برائی کا فرق مٹتا جا رہا ہے۔ ہمارا بھارتیہ سنستکار یہ تھا کہ دوسرے کے سکھ میں اپنا سکھ۔ نیا بھوتک وادیہ سکھاتا ہے کہ اپنا سکھ تو سب کا سکھ۔ ہمیں اس کو بدلنا ہے۔ نہیں تو سارے دیش کا ناس ہو جائے گا۔

مسٹر دیو کمار یادو ایڈوکیٹ (55294 .Tel) باندہ سے آئے تھے۔ وہ وکالت کے ساتھ سماجی کام بھی کرتے رہتے ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ سماج سدھار کے کام کے لئے نقطہ آغاز (اسٹارٹنگ پوائنٹ) کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلا کام لوگوں میں ایکتا لانا ہے۔ جب تک مختلف فرقوں (خاص طور پر ہندو مسلم) میں ایکتا نہیں آئے گی، وکاس کا کوئی ٹھوس کام یا کوئی بڑا کام نہیں کیا جا سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page