But, historically, it is debatable.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰، صفحہ ۳
میں نے سوچا کہ آج ہندوستان کا ہر آدمی کسی نہ کسی الفاظ میں یہی بات کہہ رہا ہے۔ ہر ایک یہ محسوس کرتا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ یکتا ملک کی ترقی کے لئے پہلی اور لازمی شرط ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یکتا کیسے آئے۔ جب بھی دو فرقوں میں نزاع کی حالت قائم ہو جائے تو اکثر لوگ یہ انتظار کرنے لگتے ہیں کہ دونوں طرف سے پہل ہو اور دو طرفہ بنیاد پر اس مقصد کو حاصل کیا جائے۔ مگر تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں دو طرفہ بنیاد پر کبھی اصلاح نہیں آتی۔ ایسے حالات میں اصلاح کا ایک ہی قابل عمل طریقہ ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایک گروہ پہل کر کے یک طرفہ بنیاد پر جھگڑے کو ختم کردے۔
عبد الکریم صاحب کشمیر سے آئے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ دہلی کی حکومت کی غلطی ہے کہ اس نے کشمیر میں بلٹ کا جواب بلٹ سے دینا شروع کیا۔ اسی سے مسائل پیدا ہوئے ۔ اگر مہاتما گاندھی کے طریقہ کو اختیار کیا جاتا تو کشمیر کا مسئلہ پیدا ہی نہ ہوتا۔ تاہم میرا خیال ہے کہ یہ ایک آئیڈیلزم تو ہوسکتی ہے مگر وہ مسئلہ کا عملی حل نہیں۔ کشمیر کے نوجوانوں نے جب پڑوس کے دشمن ملک کی مدد لے کر کشمیر میں گن کلچر کا آغاز کر دیا تو اس کے بعد عملی طور پر یہ ناممکن تھا کہ نئی دہلی کی طرف سے اس کہ جواب میں پھول کلچر چلایا جائے ۔ اب کشمیر کے مسئلہ کا یہ حل نہیں ہے کہ کشمیر کے لوگ دہلی سے یہ مانگ کریں کہ آپ لوگ گولی کا جواب گولی سے نہ دے کر گولی کا جواب پھول سے دیجئے ۔ اس مسئلہ کا ممکن حل صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ کشمیر کے لوگ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے ہتھیار پھینک دیں۔ پڑوسی ملک سے تعلق کو ختم کر دیں اور پرامن طور پر گفت و شنید کی میز پر آجائیں۔ اس کے سوا ہر دوسری بات صرف خوبصورت لفظ ہے، وہ مسئلہ کا خوبصورت حل نہیں۔
چتر کوٹ کا جلسہ ایک عوامی جلسہ تھا۔ یہاں کا اصول یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو بولنے کا موقع دیا جائے ۔ چنانچہ پانچ منٹ، دس منٹ کے وقت میں بہت سے لوگ بولے ۔ یہاں کے تجربہ اور دوسرے تجربات کو دیکھتے ہوئے میں نے مسٹر پنچم لال سے کہا کہ دنیا میں سب سے کم (rarest among the rare)
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues