Al-Risala · February 2000 · page 4

But, historically, it is debatable.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰، صفحہ ۴

جو چیز ہے وہ ایسے افراد ہیں جن کے اندر ہم آہنگ سوچ ہو۔ مجھ کو ہر آدمی کا دماغ طرح طرح کی باتوں کا ایک ڈھیر نظر آتا ہے۔ انھوں نے مجھ سے اتفاق کیا۔

یکم جنوری ۱۹۹۶ کو ساڑھے بارہ بجے ایک صاحب منچ پر آئے۔ ان کا نام رام گاندھی تھا۔ اور ان کی عمر ۸۰ سال تھی۔ ان کا حلیہ، ان کا لباس بالکل مہاتما گاندھی جیسا تھا۔ وہ ایک لاٹھی لئے ہوئے اور بالکل گاندھی کی طرح چلتے ہوئے منچ پر آئے۔ وہ گاندھی جیسی عینک لگائے ہوئے تھے۔ وہ گاندھی کے اتنا زیادہ مشابہ تھے کہ وہ گاندھی کا زندہ اسٹیچو معلوم ہوتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھاکہ دیش کے لوگوں کے لئے دو شبدوں میں آپ کا سندیش کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گاندھی جی کے راستہ پر چلنے ہی سے دیش کاکلیان ہوگا۔

سومنا دیدی ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں ۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ بابا صاحب (ونو با جی) کہا کرتے تھے کہ کل کی دنیا کو مہلا چلائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اس کو پورا کرنے کے لئے ہم مہیلاؤں کو تیاری کرنا چاہئے۔

یہ بات کہ فلاں گروہ دنیا کو چلائے گا، فلاں گروہ دنیا کی امامت کرے گا۔ یہ میرے نزدیک صرف سادہ لوحی کی بات ہے۔ دنیا کی امامت کون کرے، اس کا فیصلہ براہ راست خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ کوئی گروہ نہ دعویٰ کے ذریعہ دنیا کا امام بن سکتا ہے اور نہ خود ساختہ تیاری کے ذریعہ۔ ایک مقرر نے بڑے جوش کے ساتھ کہا: گاندھی نے غلامی کو ختم کیا۔ انھوں نے ہم کو آزاد ہندوستان دیا۔ میں نے سوچا کہ اس قسم کی باتیں آج ہر جگہ کہی جارہی ہیں۔ پاکستان کے لوگ کہتے ہیں کہ ہندو قیادت کسی بھی طرح پاکستان بننے دینا نہیں چاہتی تھی۔ مسٹر محمد علی جناح نے اپنی بے مثال قیادت کے ذریعہ پاکستان کو بنوایا۔ اسی طرح کسی مسلم ادارہ میں جائیے تو وہاں اپنے حضرت کی قصیدہ خوانی ہورہی ہوگی۔ اور ادارہ کی ساری ترقی حضرت کے حصہ میں ڈالی جارہی ہوگی۔ خدا کی زمین پر کوئی بھی نہیں جو خدا کی تعریف کرے۔ جس کا سینہ اس احساس سے لبریز ہو جائے کہ جو کچھ اس کو ملا ہے وہ خدا کے دینے سے ملا ہے۔ اگر خدا نہ دیتا تو وہ کچھ بھی پا نہیں سکتا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page