But, historically, it is debatable.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰، صفحہ ۵
۳۱ دسمبر کو آخری سیشن تھا، ۲ بجے دن میں میری تقریر تھی۔ خلاصہ یہ تھا کہ آپ کو میرا آخری سنڈلیش صرف ایک ہے” ’’آشاوادی بنیےاورنراشاکو چھوڑ دیجئے“۔ میں نے کہا کہ پچھلی رات کو جب میں گیسٹ ہاؤس میں سونے گیا تو ہر طرف اندھیرا چھا چکا تھا۔ لیکن آج جب میں سو کر اٹھا تو سورج نکل آیا اور دوبارہ چاروں طرف اجالا پھیل گیا۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ خدا اس طرح اپنے بندوں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ اس دنیا میں ہر اندھیرے کے بعد اجالا ہے۔ یہاں ہر نہیں میں ہے کا امکان چھپا ہوا ہے۔ یہ دنیاکبھی سمسیاؤں سے خالی نہیں ہو سکتی۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ سارا سماج ویسا ہی ہو جائے جیسا کہ ہم چاہتے ہیں۔ ایسی حالت میں کرنا کیا ہے۔ کرنا یہ ہے کہ سمسیاؤں میں جینا سیکھئے ۔ آپ جانتے ہیں کہ گلاب کے پیڑ میں جہاں پھول ہوتے ہیں۔ وہیں کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ آپ کتنا ہی بلڈوزر چلائیں مگر جب بھی گلاب کی شاخیں دوبارہ نکلیں گی تو ان میں پھول کے ساتھ کانٹے بھی ہوں گے۔
یہ فطرت کا خاموش پیغام ہے کہ اگر پھول چاہتے ہو تو کانٹوں کو نظر انداز کرو۔ جب آپ کانٹوں سے اپنی نگاہیں ہٹا لیں تو سارا باغ آپ کو پھول ہی پھول دکھائی دے گا۔ یاد رکھئے ، زندگی کانٹوں سے نباہ کرنے کا نام ہے، کانٹوں کے خلاف شور کرنے کا نہیں۔ زندگی صبح کے انتظار کا نام ہے، رات کے آنے پر واویلا کرنے کا نہیں۔
مسٹر راگھ وندرکمارسجان دوہندی اخباروں کے کرسپانڈنٹ ہیں۔ آج (کانپور) اور نو کرم یگ پرکاشن (باندہ)۔ انھوں نے تفصیل کے ساتھ اپنے اخبار کے لئے انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ہندو مسلم مسئلہ اخباروں میں جتنا زیادہ دکھائی دیتا ہے، حقیقت میں وہ اتنا زیادہ نہیں ہے۔ بلکہ اس سے بہت کم ہے۔
علاقہ کے تمام اخباروں میں جلسہ کی رپورٹنگ ہوئی۔ دینک جاگرن (کانپور) نے اپنے شمارہ یکم جنوری میں جو رپورٹ شائع کی، اس کا ایک حصہ یہ تھا: دہلی سے آئے ہوئے مولانا وحید الدین نے کہا کہ ”اسلام پیار کا گرنتھ ہے، اور نرمتا اس کا پہلا سبق ہے۔ انھوں نے کہا کہ پیار اور شانتی بھرے سینہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues