Mere sight is horrible.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰، صفحہ ۶
سے ہی دیش کو آگے لے جایا جاسکتا ہے۔ قرآن میں بتائی ہوئی کسوٹی پر کھرا اتر مسلمان شانتی کا سمر تھک ہوتا ہے۔ “ یکم جنوری ۱۹۹۶ نئے سال کا پہلا دن تھا۔ صبح کو میں گیسٹ ہاؤس کے سامنے ٹہل رہا تھا۔ اور خاموشی کے ساتھ اپنا احتساب کر رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ میری عمر اب کافی ہوگئی ، میں بڑھاپے کے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ اور اب تک شاید میں کچھ نہ کر سکا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمر بے کار گزر گئی۔
میں نے دو چیزوں کو اپنی کوششوں کا نشانہ بنایا تھا۔ مسلمانوں کے اعتبار سے یہ نشانہ کہ موجودہ مسلم نسلوں کے لئے اسلام کو ان کی از سر نو دریافت (re-discovery) بناؤں۔ دوسری طرف ہندوؤں کے اعتبار سے میرا نشانہ یہ تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت اور تناؤ ختم ہو۔ دونوں فرقوں کے درمیان معتدل حالات میں اختلاط ہونے لگے۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہ پہلا مقصد پوری طرح حاصل ہوا اور نہ دوسرا مقصد۔
یکم جنوری ۱۹۹۶ کی شام کو واپسی کا دن تھا۔ مغرب کی نماز گیسٹ ہاؤس میں پڑھی۔ اس کے بعد پروفیسر ہاشم قریشی اور دوسرے لوگوں کے ساتھ ڈائننگ ہال میں کھانا کھایا۔ کھانا بالکل سادہ تھا روٹی ، دال ، سبزی ، چاول ۔ وہ بالکل میرے ذوق کے مطابق تھا۔ اس طرح کا سادہ کھانا میں شوق سے کھاتا ہوں۔ جس پر تکلف کھانے کو لوگ ڈٹ کر کھاتے ہیں ، اس کے بارہ میں میرا احساس اکثر ان الفاظ میں ڈھل جاتا ہے :
Mere sight is horrible.
اس کے بعد ریلوے اسٹیشن کے لئے روانگی ہوئی۔ ہلکی بارش کا موسم تھا۔ اندیشہ تھا کہ کہیں سمین کے دوران بارش شروع ہوگئی تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ مگر عجیب بات ہے کہ تین روزہ سمین پورے سکون کے ساتھ انجام پایا۔ اور جیسے ہی یکم جنوری کی سہ پہر کو پروگرام ختم ہوا فوراً بارش شروع ہوگئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues