Al-Risala · February 2000 · page 7

جب کشتی ٹوٹی ہو ملاح بدل کر کیا ہوگا

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰، صفحہ ۷

اسٹیشن پر کچھ وقت ویٹنگ روم میں گزرا۔ یہ یہ ایک عبرت انگیز تجربہ تھا۔ اس کی تفصیل الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ البتہ ایک تجربہ کا مختصراً ذکر کروں گا۔

ریلوے اسٹیشن پر ۸۰ سال کے ایک دیہاتی شخص بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا نام رام سرن بھائی تھا۔ وہ پورنیہ کے ایک گاؤں سے سمین لمیٹڈ کے سمیلٹن کے لئے آئے تھے اور اب واپس جا رہے تھے۔ انھوں نے آزادی کی جنگ میں حصہ لیا۔ وہ جیل گئے، اور مصیبتیں اٹھائیں۔ مگر آزادی کے بعد انھیں اس کا کوئی فائدہ حاصل نہ ہو سکا۔ وہ اپنے پورے وجود سے مفلوک الحالی کی ایک زندہ تصویر تھے۔ ان کے نزدیک، وہ اسی فی صد بھارت کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ان کے تلخ تجربات نے انھیں کوی بنا دیا تھا۔ وہ ایک کے بعد ایک درد مندانہ انداز میں اپنی کویتا ئیں حاضرین کو سناتے رہے۔ یہ تمام کویتا ئیں آزاد ہندوستان میں بھرشٹا چار اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف احتجاج تھیں ۔ ان کے اشعار کو میں محفوظ نہ کر سکا۔ دو الگ مصرعے یہ تھے:

جب خود مانجھی پاگل ہو پتواری بدل کر کیا ہوگا دردشا مجبور کی مجبور ہو کر دیکھئے کویتا سناتے سناتے وہ تقریر بھی کرنے لگتے تھے۔ ایک بار انھوں نے کہا ”ہارا ہوا شکایت کرتا ہے، تم ہارے ہوئے ہو اسی لئے شکایت کر رہے ہو۔ “ مذکورہ کوی کا مصرعہ: جب خود مانجھی پاگل ہو پتوار بدل کر کیا ہوگا، جب میں نے سنا تو مجھے خیال آیا کہ یہ شعر اس صورت حال کے لئے ہے جب کہ کشتی درست ہو لیکن اس کا ملاح ٹھیک آدمی نہ ہو۔ تاہم ایک اور صورت حال ہے جب کہ خود کشتی ہی بوسیدہ ہو کر ٹوٹ رہی ہو، ایسی حالت میں پہلا کام ملاح کو بدلنے کا نہیں ہے بلکہ کشتی کو درست کرنے کا ہے۔ اس دوسری صورت حال کے لئے زیادہ صحیح مصرعہ یہ ہوگا:

جب کشتی ٹوٹی ہو ملاح بدل کر کیا ہوگا

چتر کوٹ سے دوبارہ "مهاكوشل ایکسپریس کے ذریعہ واپسی ہوئی۔ ٹرین کا یہ سفر معمول کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page