جب کشتی ٹوٹی ہو ملاح بدل کر کیا ہوگا
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰، صفحہ ۸
مطابق تھا۔ میں اپنی برتھ پر سو گیا۔ جلد ہی نیند آگئی۔ سفر اگر چہ بارہ گھنٹے کا تھا۔ مگر وہ رات کا سفر تھا۔ اس لئے بیشتر سفر سوتے ہوئے گزر گیا۔
۲ جنوری ۱۹۹۶ کو صبح آٹھ بجے میں مہا کوشل اکسپریس میں سفر کرتے ہوئے یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ ٹرین تیزی سے دہلی کی طرف چلی جارہی ہے۔ جب کہ نشست کے اعتبار سے میرارخ اس کے الٹی طرف ہے۔ اس طرح کے واقعہ کو لے کر ایک صاحب نے لکھا ہے کہ ٹرین کو اس کا انجن چلاتا ہے۔ ٹرین اسی طرف جائے گی جدھر اس کا انجن اسے لے جانا چاہتا ہو۔ ٹرین کے اندر بیٹھے ہوئے مسافر اگر اپنا رخ الٹی طرف کر لیں تب بھی وہ ادھر ہی جائیں گے جدھر ٹرین کا انجن بھاگا چلا جا رہا ہے۔ اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ یہی مثال زندگی کی ہے۔ انسانی زندگی ایک لمبی ٹرین کے مانند ہے جس کو سیاسی اقتدار کا انجن چلاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اہل جاہلیت نے زندگی کے انجن پر قبضہ کر لیا ہے۔ چنانچہ ٹرین تمام مسافروں کو جاہلیت کی منزل کی طرف لئے چلی جارہی ہے۔ اب جو لوگ انسانیت کو بچانا چاہتے ہیں، ان کا پہلا کام ہے کہ وہ سیاسی اقتدار کے انجن پر قبضہ کریں۔ یہ نظریہ نہایت گمراہ کن ہے۔ ۱۹۴۷ میں مہاتما گاندھی نے غیر مطلوب لوگوں سے اقتدار کا انجن چھینا۔ ۱۹۷۷ میں جے پرکاش نرائن نے اقتدار کا انجن چھینا۔ اسی طرح پاکستان میں ضیاء الحق نے اقتدار کا انجن چھینا۔ بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمن نے ۱۹۷۱ میں اقتدار کا انجن چھینا۔ یہی واقعہ مصر اور دوسرے مسلم ملکوں میں پیش آیا۔ ہر جگہ لوگ مفروضہ غیر مطلوب افراد سے اقتدار کا انجن چھینتے رہے۔ مگر نتیجہ ہر جگہ صفر رہا۔
نئی دہلی کے اخبار قومی آواز کے شمارہ ۲ جنوری ۱۹۹۶ میں سید شہاب الدین صاحب کا ایک بیان نظر سے گزرا۔ اس میں انھوں نے ’’ملی پارلیمنٹ‘‘ کی مذمت کی تھی جو اپنے اعلان کے مطابق ، خدا کے آخری رسول کی امت کو کفار و مشرکین کے سیاسی اتباع سے نجات دلانے کے لئے اٹھی ہے۔ اور ہندوستانی مسلمانوں کو ایک اسلامی سیاسی رخ عطا کرنا چاہتی ہے۔ سید شہاب الدین صاحب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ملی پارلیمنٹ کی اس قسم کی سرگرمیوں سے ہندو تنظیموں کو مسلمانوں
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues