تاریخ کا مطالعہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۲
کریں۔ مثلاً متشد، ازدواجی تعلقات کا عدم استحکام، شراب اور جنسی انار کی سے پیدا ہونے والی بیماریاں، وغیرہ۔ حتی کہ سیاسی چپقلش جس کا ایک مظاہرہ نومبر ۲۰۰۰ کے صدارتی انتخابات میں دونوں کی گنتی کے معاملہ میں ہوا۔
اس قسم کے مسائل کا بنیادی سبب یہ ہے کہ امریکی انسان کے پاس ایسا کوئی قابلِ یقین علم نہیں جس کے ذریعہ وہ اپنی حدود (limitations) کو جان سکے اور اپنی بے قیدی کو پابندی کے دائرے میں لے آئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امریکی انسان کو پیغمبرانہ ہدایت کی ضرورت ہے۔ آج امریکی انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اس کو یہ بتلایا جائے کہ انسانی آزادی کے حدود کیا ہیں۔ پیغمبرانہ ہدایت ہی اس معاملہ میں انسان کے لئے رہنمائی کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔ پیغمبرانہ ہدایت بتاتی ہے کہ انسان اگر اپنی آزادی کو حدود کا پابند نہ بنائے تو اس کی آزادی مہلک انار کی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ انسان پر امن عمل کے لئے آزاد ہے مگر وہ تشدد دانہ عمل کے لئے آزاد نہیں۔ انسان جائز تجارت کے لئے آزاد ہے مگر وہ مالی استحصال کے لئے آزاد نہیں۔ انسان از دواجی تعلقات کے لئے آزاد ہے مگر وہ آزادانہ جنسی تعلق کے لئے آزاد نہیں، انسان صحت بخش چیزوں کے استعمال کے لئے آزاد ہے مگر وہ نشہ اور چیزوں کے استعمال کے لئے آزاد نہیں، وغیرہ۔
حد بندی فطرت کا قانون ہے، مگر انسان خود اپنی عقل یا اپنی سائنس کے ذریعہ اس کا درست علم حاصل نہیں کر سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پیغمبرِ خدا کی ہدایت کے تحت انسان کی مدد کرتا ہے۔ پیغمبر خدا کی وحی کی روشنی میں انسان کو یہ بتاتا ہے کہ وہ کن حدود کا پابند رہ کر اس دنیا میں زندگی گزارے۔
حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر کی ہدایت ہی انسان کو اس ناکامی سے بچاتی ہے کہ وہ گھڑی کے پنڈولم کی طرح دو انتہاؤں کے درمیان گردش کرتا رہے۔ پیغمبر کے ذریعہ انسان اس صراط مستقیم کو پالیتا ہے جو مطلوب انسانی منزل کی طرف سیدھی چلی جارہی ہے، جو آدمی کو انتہا پسندانہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues