تاریخ کا مطالعہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۱
امریکی ماڈل کی ظاہری کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ قانون فطرت کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے۔ جب کہ روسی ماڈل کی ناکامی کا راز یہ ہے کہ اس کی تشکیل میں فطرت کے قانون کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ امریکی ماڈل اگر پیغمبرانہ ہدایت سے پچاس فیصد محروم تھا تو روسی ماڈل پیغمبرانہ ہدایت سے صد فی صد محروم۔
اس اعتبار سے، امریکی ماڈل اور روسی ماڈل کے فرق کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ امریکی ماڈل فطرت کے اعتراف مگر نبوت کے انکار پر مبنی ہے۔ جب کہ روسی ماڈل بیک وقت فطرت کا بھی انکار کرتا ہے اور نبوت کا بھی انکار۔ گویا امریکی ماڈل اگر پچاس فی صد صداقت سے خالی ہے تو روسی ماڈل صد فی صد صداقت سے خالی۔
چند سال پہلے امریکہ میں ایک کتاب چھپی تھی۔ اس کتاب کے مصنف نے امریکی معاشرے کا جائزہ لینے کے بعد کہا تھا کہ امریکی معاشرہ بے قید آزادی کے اصول پر قائم ہے، مگر حقائق بتاتے ہیں کہ ہم آزادی کا تحمل نہیں کرسکتے: We can't afford freedon یہ کتاب گویا اس بنیادی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے جو ظاہری کامیابی کے باوجو د امریکی ماڈل کو لاحق ہے۔ امریکی ماڈل کی ظاہری کامیابی کا راز یہ ہے کہ اس نے انسانی فطرت کو سمجھتے ہوئے ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جو تمام تر مبنی بر مفاد (interest-based) معاشرہ تھا۔ انسان کے انور سب سے زیادہ طاقت در جذبہ ذاتی مفاد کا جذبہ ہے۔ امریکی ماڈل میں اسی ذاتی جذبے کو بھر پور طور پر استعمال کیا گیا۔ یہی واحد راز ہے جس کی بنا پر امریکہ ایک قابل بقا (sustainable) معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کے برعکس روسی ماڈل اس لئے ناکام ہوا کہ اس میں اس انسانی فطرت کا انکار کر دیا گیا تھا۔
تاہم امریکی ماڈل، اپنی ظاہری خوشنمائی کے باوجود ایک لازمی کمزوری سے دوچار ہے۔ اسی کمزوری کا نتیجہ ہے کہ امریکی معاشرہ ظاہری ترقی کے باوجود مختلف قسم کے ناقابل حل مسائل سے دوچار ہے اور امریکی مدبرین کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ ان مسائل کو کس طرح حل
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues