تاریخ کا مطالعہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۳
ٹھوکروں سے بچا کر اس قابل بناتی ہے کہ وہ سچائی کی شاہراہ پر سیدھا چلتا رہے یہاں تک کہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔
پیغمبرانہ ہدایت انسان کو بیک وقت دو چیزیں دیتی ہے ــــ صحیح حدود کار کا علم اور ان حدود کو عملاً اپنی زندگی میں اختیار کرنے کا محرک (incentive)۔ یہ دونوں چیزیں بیک وقت ضروری ہیں، ایک کے بغیر اس دنیا میں دوسری چیز نامکمل رہتی ہے۔
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، پیغمبر انسان کو بتاتا ہے کہ آدمی اپنی زندگی کی مختلف سرگرمیوں میں کہاں تک جائے اور کہاں تک پہنچ کر رک جائے۔ اسی کے ساتھ دوسری اہم چیز جو پیغمبر کے ذریعہ انسان کو بتائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ حدود کار کا یہ معاملہ خدائی قانون کا معاملہ ہے نہ کہ سادہ طور پر انسانی قانون کا معاملہ۔ انسان اگر اس حدود کار کی پابندی کرے تو وہ دنیا میں ایک کامیاب زندگی کی تعمیر کرے گا اور اسی کے ساتھ موت کے بعد کی زندگی میں وہ ابدی جنت میں داخلہ کا مستحق قرار پائے گا۔
لیکن انسان اگر اس حدود کار کی پابندی نہ کرے تو صرف یہی نہیں ہوگا کہ اس کی دنیوی زندگی کے معاملات بگڑ جائیں گے، وہ زمین پر ایک صالح معاشرہ قائم کرنے میں ناکام رہے گا۔ اسی کے ساتھ وہ اپنے آپ کو اس سنگین انجام کا مستحق بناتا ہے کہ اس کا خالق اس پر غضبناک ہو اور موت کے بعد اس کو ابدی جہنم میں ڈال دے۔
پیغمبرانہ ہدایت میں یہ دو طرفہ محرک اس بات کی یقینی ضمانت ہے کہ انسان اس ہدایت کو لازماً اختیار کرے، خود اپنے ذاتی مفاد کا محرک اس کو مجبور کر دے کہ وہ اس روش سے انحراف نہ کرے۔ وہ دل کی آمادگی کے ساتھ اس پر قائم ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues