تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۶
غلط ہے۔ آج کے ہندوستان میں اگر انگریزوں کی وراثت جاری رہتی تو یہاں مذکورہ قسم کے واقعات دکھائی دیتے جب کہ عملاً یہاں اس کے بالکل برعکس ہو رہا ہے۔
بہار کے سفر کے لئے مجھے ۳۱ اکتوبر ۲۰۰۰ کی شام کو روانہ ہونا تھا۔ ایک ہفتہ کے اس سفر کا پورا پروگرام بہار کے لوگوں نے بنا لیا تھا۔ مگر سفر سے صرف ایک دن پہلے ۳۰ اکتوبر کو مجھے زکام ہوا اور اسی کے ساتھ حرارت آگئی۔ ٹمپریچر ۱۰۰ ڈگری تک پہنچ گیا۔ میں سخت پریشان تھا کہ ایسی حالت میں یہ لمبا سفر کس طرح کروں گا۔ میرے ساتھی مجھ کو سفر سے منع کرنے لگے۔
آخر کار بے بسی کے احساس کے ساتھ میں نے اللہ سے یہ دعا کی کہ خدایا، تیرے کچھ خطر بندوں کا دل توڑنے سے بچنے کے لئے میں یہ سفر کر رہا ہوں، تو بھی میرے دل کو ٹوٹنے سے بچا لے ۔ میری بیماری کو اچھا کر دے۔ اور میرے حق میں اس رحمت کا فیصلہ فرمادے جو حضرت ابراہیم کی زبان سے قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہے: واذا مرضت فهو يشفين (الشعراء ٨٠)
اس کے بعد ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ میں بادل ناخواستہ ٹرین میں سوار ہو گیا۔ اور پھر وہاں عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد سو گیا۔ فجر سے پہلے نیند کھلی تو اندر کی بنیان پسینہ میں بالکل بھیگی ہوئی تھی۔ اس طرح پسینہ نکلنا میرے لئے علاج بن گیا۔ چنانچہ جب میں یکم نومبر ۲۰۰۰ کی صبح کو پٹنہ ریلوے اسٹیشن پر اترا تو میری طبیعت ٹھیک ہو چکی تھی اور میرا بخار اتر گیا تھا۔ اس کے بعد سفر کے آخر تک میری طبیعت بالکل ٹھیک رہی۔ دعا ایک طاقت ہے، بلکہ وہ سب سے بڑی طاقت ہے۔
بہار کا ابتدائی تعارف مجھے تقریباً ٦٥ سال پہلے اس وقت ہوا جب کہ میں یوپی کے ایک عربی مدرسہ کا طالب علم تھا۔ ایک بار بہار کے ایک نوجوان اس مدرسہ میں داخلہ کے لئے آئے۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ دار الاقامہ میں پہنچے تو وہاں کے طلبہ نے سنجیدہ انداز میں کہا: کیا آپ کے شامل بدھنا بھی ہے۔ یہ بظاہر ایک سنجیدہ سوال تھا۔ مگر وہ بہار کے طالب علم کی تضحیك تھی۔
بہار کے طلبہ لوٹے کو بدھنا کہتے تھے اور ساتھ کی جگہ شامل بولتے تھے۔ یہ زبان یوپی والوں سے مختلف تھی۔ اور یوپی والے چونکہ اپنی زبان کو معیاری سمجھتے ہیں اس لئے وہ اس قسم کے فرق پر بہار والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔
یہ معاملہ صرف نوجوان طلبہ تک محدود نہ تھا۔ اساتذہ کا رویہ بھی اس معاملہ میں زیادہ مختلف نہ تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ہماری کلاس میں عربی کا ایک لفظ، غالباً دقیق سامنے آیا۔ ہمارے استاد نے اس کا مطلب پوچھا۔ بہار کے ایک طالب علم نے اس کو بتاتے ہوئے کہا با ہیک۔ استاد نے یہ سن کر کہا کہ آپ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues