Al-Risala · March 2001 · page 7

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۷

نے تو اس کو اور موٹا کر دیا۔ بہار کے لوگ چونکہ اکثر 'ر' کو ’ڑ‘ کی طرح بولتے ہیں، اس لئے یہ لطیفہ پیش آیا۔

یو پی اور دہلی کے لوگ بہار والوں کی زبان اور ان کی تہذیب کو لمبی مدت سے اپنے سے کم سمجھتے رہے ہیں۔ چنانچہ "بہاری" کا لفظ وسط ہند کی زبان میں کم تر کے معنی میں معروف ہو گیا۔ مگر اب صورت حال بالکل بدل گئی ہے۔ یو پی اور دہلی کے مسلمانوں کا فخر پسندی کا مزاج ان کے لئے الٹا ثابت ہوا۔ اس مخصوص ذہن کی بنا پر ان کے اندر محنت اور ایڈجسٹمنٹ کا مزاج پرورش نہ پا سکا۔ چنانچہ وہ جدید ترقیاتی میدان میں زیادہ آگے نہ بڑھ سکے۔ اس کے برعکس بہار کے لوگوں کے حالات نے ان کے اندر تواضع (modesty) اور کمی کا مزاج پیدا کیا۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر وہ زیادہ محنت کرنے لگے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بہار کے مسلمان تقریباً ہر میدان میں یو پی اور دہلی کے مسلمانوں سے آگے ہیں، ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی۔ بہار کے سفر کا پروگرام بنا تو وہاں سے ایک صاحب کا خط موصول ہوا۔ یہ خط ان کے الفاظ میں یہ تھا: "مغربی چمپارن میں آپ کے دورہ کا پروگرام سن کر بہت خوشی ہوئی۔ لیکن اس بات کا بہت دکھ ہوا کہ آپ کے پروگرام میں علاقہ دیوراج رام نگر شامل نہیں۔ علاقہ دیوراج رام نگر مغربی چمپارن کا دل ہے۔ اگر یہ علاقہ محروم رہ گیا تو یہ پروگرام میرے خیال سے ادھورا رہ جائے گا۔ اگر ممکن ہو تو رام نگر یا بگہی میں سے کسی ایک کو ضرور منتخب کریں گے۔ انشاء اللہ ضیافت میں کوئی کمی نہیں ہوگی (شمس الہدیٰ خاں۔ رام نگر، مغربی چمپارن) اس خط میں "ضیافت" کا لفظ میرے لئے بڑا عجیب تھا۔ ممکن ہے مکتوب نگار کے ذہن میں ضیافت کا کوئی دوسرا مفہوم ہو۔ مگر ہمارے علاقہ میں عام طور پر ضیافت کا لفظ کھانے پینے کے معاملہ میں بولا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے رہنماؤں نے جو نمونہ پیش کیا ہے وہ یہی ہے کہ ان کے سفروں میں اگر کھانے پینے کا اعلیٰ اہتمام ہو تو وہ خوش ہوتے ہیں۔ اور اگر اس کا اعلیٰ اہتمام نہ ہو تو وہ نا خوش ہو جاتے ہیں۔ اور اس کو اپنی بے عزتی کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ مگر میرا معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے۔ جو لوگ مجھ کو قریب سے جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ مجھے پر تکلف کھانے کے بجائے معمولی کھانا پسند ہے۔ پر راحت زندگی کے بجائے سادہ زندگی میں میری روح کو خوشی ملتی ہے۔ شہرت اور عزت کے مقام پر بیٹھنے سے زیادہ لذیذ میرے لئے یہ بات ہے کہ میں اپنے آپ کو گم نامی میں پاوں اور اپنی تنہائیوں میں اللہ کو یاد کروں۔ یکم نومبر کی صبح کو جب میں پٹنہ کے ریلوے اسٹیشن پر اترا تو وہاں اسٹیشن کی طرف سے پبلک ایڈریس سسٹم پر مسلسل اعلان ہو رہا تھا: ایک ہندو مسافر جو میرے ساتھ ہی ٹرین سے اترے تھے انہوں نے اس کو سن کر کہا کہ اس کو سنئے یہ اعلان آپ کے لیے ہو رہا ہے۔ ریلوے اناؤنسر کہہ رہا تھا۔ مولانا وحید الدین پدم بھوشن

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page