Read
Al-Risala, March 2001
- p. 4 تاریخ دعوت حق
- p. 5 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الرَّسَالَہ، مارچ، 2001 خصوصی شمارہ:
- p. 6 غلط ہے۔ آج کے ہندوستان میں اگر انگریزوں کی
- p. 7 نے تو اس کو اور موٹا کر دیا۔ بہار
- p. 8 پرسكارت کا بہار کی پاون دھرتی پراردک سواگت ہے۔
- p. 9 کرے۔ اس کی واحد شرط یہ ہے کہ وہ
- p. 10 در میان یہ فرق ہے کہ عادل حکمراں دوسروں
- p. 11 کے ایک ایکٹ کے تحت دسمبر ۱۹۶۹ میں اس
- p. 12 ہے ۔ اس کے بعد میں برابر آپ کی
- p. 13 پر هنگامه کھڑا کر دیا۔ اس زمانہ کے کئی
- p. 14 ثناء اللہ ندوی صاحب نے بتایا کہ اس اقتباس
- p. 15 جناب عطاءء اللہ ڈھاکوی سے ملنا تھا۔ ایک کپڑے
- p. 16 خریداروں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ تین بجے انہوں
- p. 17 دوسری بات یہ کہ اگر بالفرض وہ حالات پیدا
- p. 18 صاحب حق کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے
- p. 19 قوانین کو لوگوں کے اوپر نافذ کیا جائے ۔
- p. 20 آگے بڑھانا چاہئے اور یہی بات میں نے آپ
- p. 21 نے کہا کہ اس وقت مسلمانوں میں ایک عجیب
- p. 22 نہیں، خاموشی پورے معنوں میں ایک عمل ہے۔ خاموشی
- p. 23 یہ بات قانون فطرت کے خلاف ہے۔ قانون فطرت
- p. 24 موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا کام اسلام کو
- p. 25 ایک علم اور دوسری دعا۔ علم کے ذریعہ آدمی
- p. 26 شرکت کے بعد میں نے ان سے اس سفر
- p. 27 ۲ نومبر کی شام کو ہم لوگ موتی ہاری
- p. 28 حاصل ہو گئی۔ اپنا تجربہ بتاتے ہوئے انہوں نے
- p. 29 میں نے کہا کہ مسلمانوں میں جو اصل کمی
- p. 30 انقلاب پیدا کر دیا۔ میں مولانا کو اس دور
- p. 31 سکتا۔ وہ مجبور ہے کہ وہ کسی تبدیلی کے
- p. 32 کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ملا ہوا
- p. 33
- p. 34 پر جوش لوگوں نے ریل کی پٹریاں اکھاڑدیں، ٹرینوں
- p. 35 سید عبد المجید صاحب کی زندگی میں ایک انوکھی
- p. 36 صرف ایک آدمی کی تقریر سننے کے لئے ہندو
- p. 37 کے وقت، وہیں تھے جو بہار شریف میں ۹
- p. 38 ذهن سخت تھا۔ اور اب ان کے دل میں
- p. 39 موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے
- p. 40 نہیں آیا۔ اس کے بعد صدر جلسہ نے جلسہ
- p. 41 فجر کی نماز درگاہ محلہ کی مسجد میں پڑھی۔
- p. 42 ایک خوش اور مطمئن انسان رہتا ہے۔ مگر جج
- p. 43 محمد ثناء اللہ صاحب نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے
- p. 44 بہت گہرے معانی ہوتے ہیں۔ بہار کے کئی لوگوں
- p. 45 نمازِ فجر کے بعد مجھ سے درس کے لئے
- p. 46 تعلق ہے وہ بلاشبہ پر امن طور پر پھیلا
- p. 47 اطمینان سے بیٹھے۔ مگر وہ خود کھڑا ہو گیا
- p. 48 جناب محمد حفظ الرحمٰن عرف ننھے بابو نے کئی
- p. 49 جناب غلام الحسین صاحب (۶۲ سال) نے کہا کہ
- p. 50 ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ پروفیسر کلیم
- p. 51 بولے مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ تقریباً
- p. 52 یہاں آئیں تو آپ مجھے ان کا درشن کرائیے۔
- p. 53 نے صرف تحریروں کو پڑھا تھا اب آپ نے
- p. 54 لکھنا چاہئے کہ قائدین نے امت مسلمہ کوکیادیا پھر
- p. 55 اخباروں کے نمائندے موجود تھے۔ انہوں نے مختلف قسم
- p. 56 ناظم اعلیٰ جامع مسجد نرکٹیاگنج نے اپنے تاثرات ان
- p. 57 ۶ نومبر کی شام کو حاجی ڈاکٹر محمد اکرام
- p. 58 کے احاطہ میں ایک باقاعدہ مسجد بھی ہے۔ یہ
- p. 59 خوردہ ذہنیت پیدا ہو گئی۔ اس وقت اقبال نے
- p. 60 کہ وہ اس تقریر کو لوگوں میں پھیلا رہے