فراست مومن
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۱۴
فراست مومن
پیغمبر اسلام ﷺ کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ آپ صاحبِ حکمت تھے اور لوگوں کو حکیمانہ روش اختیار کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔ اس سلسلہ میں آپ کے بہت سے اقوال حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے فرمایا: لا حسد الا فی اثنتین رجل آتاه الله مالا فسلطه على هلكته في الحق، و آخر آتاه الله حكمة فهو يقضي بها ويعلمها (فتح الباری، بشرح صحیح البخاری (۱۲۸/۱۳)
یعنی حسد نہیں سواد و قسم کے آدمیوں پر ۔ ایک وہ آدمی جس کو اللہ نے مال دیا تو وہ اس کو حق کے راستہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔ اور دوسرا آدمی وہ جس کو اللہ نے حکمت دی تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور کہا کہ اے اللہ اس کو حکمت عطا فرما (ضمنى النبي ﷺ الى صدره وقال اللهم علمه الحكمة) فتح الباری ١٢٦/٧ اسی طرح اور بہت سی روایتیں ہیں جن سے حکمت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نعم المجلس مجلس ينشر فيه الحكمة (الدارمي مقدمہ) یعنی کیا ہی اچھی ہے وہ مجلس جس میں حکمت کی بات کی جائے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ ليس هدية افضل من كلمة حكمة (الدارمی، مقدمہ) یعنی حکمت کی بات سے زیادہ افضل کوئی تحفہ نہیں۔
حکمت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کی بابت یہ تعلیم دی گئی کہ دوسری قوموں میں
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues