تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۳۲
کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ملا ہوا ہے اس پر راضی رہتے ہوئے اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔ وہ چیز جس کو مایوسی اور شکایت کہا جاتا ہے وہ ہمیشہ عدم قناعت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یعنی ملے ہوئے پر راضی نہ ہونا اور نہ ملے ہوئے پر اپنی نظریں جمائے رکھنا۔ جہاں تک صبر کا تعلق ہے تو صبر اسلام میں صرف ایک طریق عمل نہیں، بلکہ وہ ایک عبادت ہے۔ اسلامی صبر یہ ہے کہ حالات خواہ کتنے ہی ناخوش گوار ہوں، آپ اپنے آپ کو منفی سوچ سے بچائیں اور غیر متاثر سوچ کے تحت اپنے عمل کا نقشہ بنائیں۔
آزادی سے پہلے کے ہندوستان میں یہ عام رواج تھا کہ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں میں ہندو نوجوان بھی پڑھا کرتے تھے۔ یہ روایت اب بھی بہار میں کسی قدر باقی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ مثال ٹائمس آف انڈیا کے پٹنہ ایڈیشن (۹ ستمبر ۲۰۰۰) میں شائع ہوئی ہے۔ یہ واقعہ مزید تفصیل کے ساتھ ٹائمس آف انڈیا کے نئی دہلی ایڈیشن (۱۲ ستمبر ۲۰۰۰) میں چھپا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہار کے ضلع گوپال گنج (کھیتاپور) میں ایک مسلم مدرسہ قائم ہے جس میں ۴۰۰ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان میں سے ۷۰ ہندو طلبہ ہیں۔ ایک سابق ہندو ایم ایل اے نے بھی اپنے بچے کو اس مدرسہ میں داخل کر لیا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا کی یہ رپورٹ اگلے صفحہ پر نقل کی جارہی ہے۔
جناب مولانا محمد مطلوب (گیا) اور محمد اکرام الدین صاحبان اس سفر میں ہمارے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم کو الرسالہ نہیں ملا تھا تو ہمارا حال یہ تھا کہ ہمارے سینہ میں دوسروں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکتی رہتی تھی۔ میرے غصہ کا حال یہ تھا کہ اگر کوئی مجھے ایک گالی دے تو میں اسے دس گالی دوں اگر کوئی مجھے ایک ڈنڈا مارے تو میں اس کو دس ڈنڈے ماروں۔ اسی کو میں اپنے لئے کمال سمجھتا تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہی بہادری ہے اور ایسا نہ کرنا بزدلی۔ مگر الرسالہ کے مطالعہ سے میرے سینہ میں حسد و انتقام کی بھڑکتی ہوئی آگ بجھ گئی۔ مجھے یہ تجربہ ہوا کہ زندگی دوسروں سے محبت کرنے کا نام ہے نہ کہ ان سے نفرت کرنے کا نام۔ ۳ نومبر کو ہم لوگ مدرسہ حسینیہ بیلواڑہ پہنچے۔ یہاں لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ یہ مدرسہ اس علاقہ میں تعلیم پھیلانے کا کام کر رہا ہے۔ مدرسہ کے پر امن تعلیمی ماحول کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تعلیم ہی احیاء ملت کے کام کا آغاز ہے۔ جب تک تعلیم لوگوں کے اندر عام نہ ہو جائے، دوسرا کوئی بھی کام نہیں کیا جا سکتا۔ قوم کو تعلیم یافتہ بنائے بغیر دوسرے دوسرے ایشوپری لوگوں کو اٹھانے کی کوشش کرنا صرف شخصی مقبولیت کا ذریعہ ہے، وہ ملت کی تعمیر کا ذریعہ نہیں۔ جناب عبدالمجید صاحب (۷۰ سال) بتایا کی ایک خاص شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی واقعات بتائے۔ ۱۹۳۲ میں وہ ندوہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ جب کوئٹ انڈیا کی تحریک شروع ہوئی تو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues