تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۳۴
پر جوش لوگوں نے ریل کی پٹریاں اکھاڑدیں، ٹرینوں کی آمد و رفت رک گئی۔ اوں نے بتایا کہ میں اور چند دوسرے طلباء لکھنؤ سے پیدل چل کر تپیا پہنچے، اس سفر میں تقریبا ایک ماہ لگ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سفر کے دوران جس گاؤں میں بھی ہم لوگ پہنچے وہاں ہم لوگ عزت کے ساتھ ٹھہرائے گئے۔ وہ لوگ کھانے پینے کا انتظام کرتے اور کئی کئی دن تک روکتے۔ اسی بنا پر یہ سفر اتنا لمبا ہو گیا۔
مدرسہ حسینیہ سے چل کر جناب سید عبدالمجید صاحب کے مکان پر پہنچے۔ یہاں بہت سے تعلیم یافتہ لوگ اکٹھا ہو گئے۔ ان میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔ ان لوگوں سے دیر تک باتیں ہوئیں۔ ان میں ایک عجیب شخصیت ڈاکٹر اشونی کمار اشرف (۴۵ سال) تھی۔ وہ ایم جے کالج میں صدر شعبہ فلسفہ ہیں۔ وہ چھوٹی عمر میں تھے کہ ان کی دونوں آنکھیں ضائع ہو گئیں۔ پوری تعلیم انہوں نے بریل سسٹم کے ذریعہ حاصل کی۔ وہ شاعر بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک نعت سنائی جو رلا دینے والی تھی۔ اس کا ایک شعر یہ تھا: کس کے در پہ جائے کس سے لو لگائے ایک یہی ہے آستاں سید کون و مکاں ڈاکٹر اشونی کمار اشرف جیسے لوگ قدرت کا ایک معجزہ ہیں۔ آنکھ سے معذور ہونے کے باوجود وہ تقریباً دس زبانوں پر قدرت رکھتے ہیں۔ یہ ساری زبانیں انہوں نے بریل سسٹم سے سیکھی ہیں۔ انہوں نے قرآن کی کچھ آیتیں سنائیں تو میری زبان سے نکلا اتنا اچھا تو میں بھی نہیں پڑھ سکتا۔ بریل سسٹم پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کبھی وہ قرآن پڑھتے، کبھی انگریزی نظم سناتے، کبھی ہندی اور کبھی اردو عبارتیں دہراتے۔ میں حیرانی کے ساتھ اس منظر کو دیکھتا رہا۔ میں نے سوچا کہ انسان کے اندر کیسی عجیب و غریب صلاحیت ہے کہ وہ آنکھوں سے معذور نہ ہونے کے باوجود پڑھ سکتا ہے۔ وہ لوگ انسانیت کے کتنے بڑے محسن ہیں جنہوں نے آدمی کے اس فطری امکان کو دریافت کیا اور اس کو بریل سسٹم میں ڈھال کر نا بینا لوگوں کو موقع دیا کہ وہ اپنی انگلیوں کے ذریعہ وہ کام کریں جو بینا لوگ اپنی آنکھوں کے ذریعہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر اشونی کمار نے مختلف زبانوں میں اہل زبان کے لہجہ میں بہت سے اشعار سنائے۔ یہ میرے لئے ایک انوکھا تجربہ تھا۔ اس کو سن کر میں نے کہا کہ آپ کو دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کو شاید اس پرانے مقولہ پر نظر ثانی کرنی پڑے کہ: جیک آف آل، ماسٹر آف نن آپ نے یہ ثابت کر دیا کہ ایک انسان بیک وقت کئی چیزوں کا ماسٹر ہو سکتا ہے۔ انسان کی استعداد (capacity) اتنی زیادہ ہے کہ اس قسم کا کوئی قول انسانی استعداد کی حد بندی نہیں کر سکتا۔ جناب گیا شنکر سنگھ ایڈوکیٹ اپنے قانونی پیشہ کے ساتھ تعمیری کام بھی کرتے رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ ایک ہندی پرچہ نکالتے ہیں جس کا نام با معنی طور پر تال میل ہے۔ اس میں اصلاحی تحریریں بھی شائع کی جاتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues