Al-Risala · March 2001 · page 35

تاریخ دعوت حق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۳۵

سید عبد المجید صاحب کی زندگی میں ایک انوکھی مثال یہ ملی کہ ان کی بہو نوشابہ صاحبہ ایم اے جب شادی کے بعد ان کے یہاں آئیں تو انہوں نے اپنی بہو سے پوچھا کہ ہم تمہاری خوشی کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟ خاتون نے کہا کہ مجھے تو آپ صرف ایک اسکول بنا کر دیجئے۔ چنانچہ سید عبد المجید صاحب نے ایک اسکول تعمیر کر کے انہیں دیا تا کہ وہ قوم کے بچوں کو تعلیم یافتہ بنائیں۔ اس اسکول کا نام سن رائز اکیڈمی ہے۔ ۳ نومبر کی دوپہر کو میں نے خود اپنی آنکھوں سے اس اسکول کو دیکھا۔ یہ بلاشبہ ایک ایسی مثال ہے جس پر ہر ایک کو عمل کرنا چاہئے۔

بہار کے موجودہ سفر میں اس قسم کے بہت سے تعمیری تجربے و مشاہدے سامنے آئے۔ اس کے بعد میری زبان سے نکلا: میڈیا کے ذریعہ بہار کی جو تصویر دنیا کو معلوم ہے وہ صرف یہ ہے کہ یہاں ایک بے پڑھی لکھی خاتون چیف منسٹر ہیں۔ مگر ذاتی مشاہدے کے بعد بہار کی جو تصویر میرے سامنے آئی وہ اس سے مختلف تھی۔ میں نے کہا کہ بہار تو بہار علم ہے، اگرچہ لوگ بہار کے اس دوسرے رخ کو بہت کم جانتے ہیں۔ اخباروں کی رپورٹوں کے مطابق بہار کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ بہار ایک ایسی ریاست ہے جہاں بے پڑھی لکھی خاتون کو چیف منسٹر بنا دیا جاتا ہے، جہاں نیچی ذات اور اونچی ذات کے لوگ ایک دوسرے کو قتل کرتے رہتے ہیں، جہاں سڑکوں کے نام سے صرف غیر ہموار راستے ہیں، جہاں بجلی کا نظام اتنا خراب ہے کہ بجلی ہونے کے باوجود لوگوں کو لالٹین جلانی پڑتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہ ریاست بہار کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کا دوسرا رخ جو میرے نزدیک زیادہ اہم ہے وہ مجھے میڈیا یا اخباروں کے ذریعہ معلوم نہیں ہوا تھا اس کا علم مجھے صرف اس وقت ہوا جب میں نے اس کا تفصیلی دورہ کیا۔ وہ روشن رخ یہ ہے کہ بہار کے لوگ، ہندو اور مسلمان دونوں، ملک کی تقریبا ۳۰ ریاستوں میں ایک استثنائی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ سادگی اور تواضع اور اعتراف کے معاملہ میں ممتاز طور پر دوسری ریاستوں سے فائق ہیں۔ ان میں سچائی کو قبول کرنے کا جو مادہ ہے وہ مجھے دوسری ریاستوں میں کم نظر آیا۔ اس کے کئی واضح نمونے مجھے اپنے سفر میں ملے۔ مثلاً میں اپنی عادت کے مطابق لوگوں کو اکثر "تنبیہ" کر تار ہتا تھا مگر وہ لوگ ہمیشہ صرف مخلصانہ مسکراہٹ کی صورت میں اس کا جواب دیتے تھے۔ اسلامی مرکز کی مطبوعات کا اسٹال ہر اجتماع کے موقع پر رکھا گیا تھا۔ مولانا عبد الرحیم امدادی کے الفاظ میں، یہاں ہر جگہ لوگ کتابوں کو جیسے لوٹ رہے تھے، مفت میں نہیں بلکہ پوری قیمت ادا کر کے۔ حتی کہ کتابیں میرے دورہ کی تکمیل سے پہلے ہی ختم ہو گئیں۔

اسی طرح بہار میں ایک انوکھا منظر یہ دیکھنے میں آیا کہ جہاں جہاں میرے خطاب کا پروگرام رکھا گیا،

‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues

Printed page