تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۴۱
فجر کی نماز درگاہ محلہ کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد لوگوں نے درس کے لئے کہا۔ امام صاحب نے نماز میں یہ آیت پڑھی تھی۔ یا ایھا الذین آمنوا التقوا الله ولتنظر نفس ما قدمت لغد (الحشر ۱۸)۔ میں نے اس آیت کو لے کر ایک تربیتی تقریر کی۔ میں نے کہا کہ اللہ نے اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ انسان یہ دیکھے کہ وہ کل کے لئے کیا بھیج رہا ہے۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ مسجد میں تو اس آیت کو سنتے ہیں لیکن باہر جا کر برعکس طور پر اس فکر میں لگ جاتے ہیں کہ اپنے آج کے لئے میں کیا کماؤں۔ یعنی ساری فکر اس بات کی ہو جاتی ہے کہ آج میں کیا حاصل کروں۔ میں نے کہا کہ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر اس سے اپنے لئے ہدایت نہیں لیتے۔ وہ مسجد والے اعمال تو کرتے ہیں مگر وہ مسجد والے اسباق نہیں لیتے۔ میں نے کہا کہ یاد رکھئے اصل اہمیت مسجد والے اعمال کی نہیں ہے بلکہ مسجد والے اسباق کی ہے۔
۴ نومبر کی صبح کو مدرسہ اسلامیہ یتیم خانا کا معائنہ کیا۔ اس مدرسہ کی بنیاد ۱۸۹۴ میں رکھی گئی۔ یہ ایک تاریخی مدرسہ ہے۔ اس مدرسہ کے ذمہ دار پروفیسر ناظم صاحب ہیں۔ یہاں دار الافتا اور دار القضاء بھی قائم ہے۔ یہاں طلبہ واساتذہ کے سامنے ایک مختصر تقریر کی۔ میں نے کہا کہ پچھلے دو سو سال کے درمیان مسلمانوں نے بہت سے کام شروع کیے۔ مگر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ ختم ہوتے رہے لیکن مدرسہ کا کام غالباً واحد کام ہے جو قابل بقا (sustainable) ثابت ہوا۔ ایک حدیث ہے کہ خیر الاعمال الی اللہ ادومھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مداومت میں کوئی پر اسرار صفت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مداومت قانون فطرت کے مطابق ہے۔ جو کام شروع کرنے کے بعد مسلسل کیا جاتا ہے اس کے ساتھ تائیدی عوامل شامل ہوتے رہتے ہیں جو اس کو تقویت دے کر آگے بڑھاتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچا دیتے ہیں۔ ۴ نومبر کی صبح کو بتایا کے ڈسٹرکٹ جج راجندر پر ساد چودھری کی دعوت پر ہم لوگ ان کی رہائش گاہ پر گئے، وہاں ان سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ میں ان سے قانون اور عدالت کے بارے میں مختلف قسم کی معلومات لیتا رہا۔ آخر میں میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کا جو پروفیشن ہے اس میں آپ کو بہت سکون ہو گا اور آپ اس سے انجوائے کرتے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو ایک ہی روٹین پر چلنا پڑتا ہے۔ وہی وکیل کی باتیں، وہی گواہوں کے بیانات، وہی قانونی بحثیں، وہی ایک قسم کی دستاویزات۔ ہمارے پروفیشن میں کوئی نئی چیز نہیں ہوتی۔ اور آپ جانتے ہیں کہ انسان ہر دن نئی چیز چاہتا ہے۔ روٹین کے کام کو انسان بس خشک ڈیوٹی کے طور پر کرتا ہے، خوشی کے طور پر نہیں۔ جج صاحب کے یہاں پہنچ کر ہم لوگ گیٹ کے اندر داخل ہوئے تو ہمارے سامنے ایک شاندار مکان تھا۔ جو وسیع لان اور سر سبز ماحول کے اندر واقع تھا۔ بظاہر ایک عام آدمی کا تاثر یہ ہوگا کہ اس مکان میں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues