تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۴۰
نہیں آیا۔ اس کے بعد صدر جلسہ نے جلسہ کے خاتمہ کا اعلان کردیا۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ تقریر کے بعد لوگ اتنا زیادہ مسحور ہوگئے تھے کہ کسی کے سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا سوال کریں۔ میں نے مولانا ثناء اللہ ندوی سے تقریر کے بعد ان کا تاثر پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں اپنے احساسات کو الفاظ میں بیان کرنے سے عاجز ہوں۔ آپ کی باتیں عین فطرت کو اپیل کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کو اپنی فطرت کے مطابق پا کر اس پکار پر لبیک کہہ رہے ہیں۔ اس کا مشاہدہ میں نے بتایا ٹاؤن ہال میں آپ کی تقریر اور وہاں کے پرسکون ماحول میں کیا۔
جناب امداد امام صاحب نے تقریر کے بارے میں کہا ”میرے پاس اپنا تاثر بتانے کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے الفاظ گم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہندو مارواڑی کو میں نے دیکھا کہ وہ پہلے آیا اور پھر دیکھا کہ وہ واپس جا رہا ہے۔ میں نے دیکھا تو پوچھا کہ کیوں واپس جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو کوئی مولانا ہیں ان کی باتیں میری سمجھ میں نہیں آئیں گی۔ پھر میں ان کو اپنے ساتھ لے گیا اور اوپر گیلری میں بٹھایا۔ انہوں نے آپ کی پوری تقریر سنی۔
جب وہ واپس جانے لگے تو میں نے اس سے تقریر کے بارے میں ان کا تاثر پوچھا۔ مگر انہوں نے جو کچھ سنا تھا وہ اس میں اتنے گم تھے کہ انہوں نے صرف اپنا سر ہلا دیا اور زبان سے کچھ نہ کہہ سکے، انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک عجیب بات دیکھی کہ آپ کی تقریر ختم ہونے کے بعد بھی لوگ کئی منٹ تک خاموش بیٹھے رہے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ لوگ مبہوت ہوں اور سمجھ میں نہ آتا ہو کہ کیا کریں۔ ۴ نومبر کی صبح کو فجر سے کچھ پہلے سو کر اٹھا تو صاحب خانہ امداد امام صاحب چائے کی پیالی لے کر آئے۔ انہوں نے میری طرف پیالی بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ قبض کے لئے مفید ہے۔ میں اپنے مزاج کے اعتبار سے دوا کے نام سے الر جک ہوں۔ کوئی چیز اگر آپ مجھ کو دوا کے نام پر دیں تو میں اس کو لینے سے الر جک رہتا ہوں۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر مجھے اس کو لینے میں تردد ہوا مگر صاحب خانہ کی دلجوئی کی خاطر میں نے کہا کہ مجھ کو آدھی پیالی دے دیجئے۔ چنانچہ انہوں نے اس کو کم کر کے مجھے آدھی پیالی دے دی۔ میں نے اس کو پیا تو وہ لیموں کی چائے تھی۔ میں نے بعد کو جناب امداد امام صاحب سے کہا کہ اگر آپ نے کہا ہو تا کہ یہ لیموں کی چائے ہے تو میں شوق سے پوری پیالی پی جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لیموں کی چائے مجھے اپنے شیخ مولانا عبد الباری ندوی کی یاد دلاتی ہے۔ میں ۱۹۲۶ میں کچھ دنوں لکھنؤ میں ان کے گھر پر تھا۔ وہ روزانہ اپنے ہاتھ سے لیموں کی چائے بنا کر مجھے پلاتے اور کہتے کہ یہ بہت مفید ہے۔ اس بنا پر لیموں کی چائے سے مجھے ایک قسم کا روحانی تعلق ہو گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues