تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۴۳
محمد ثناء اللہ صاحب نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا: اب تک ہم امن و شانتی کا شہد سنتے تھے، اس کو پوری طرح سمجھنا تھا۔ آج کی تقریر سے امن و شانتی کا مطلب سمجھا اور اس کی کتنی زیادہ اہمیت ہے اس کو جانا۔ ۴ نومبر کی دوپہر کو ہم لوگ مدرسہ جامعہ اسلامیہ (سمیرا) گئے۔ اس مدرسہ کا قیام ۱۸۱۸ء میں ہوا اس کے بانی مولانا احسان اللہ و مولانا جعفر علی صاحب ہیں۔ یہ مدرسہ پہلے پوڑی گنڈک ندی کے کنارے پر واقع تھا۔ وہاں وہ سیلاب کے دوران ۱۹۶۲ء میں دریائی کٹاؤ کی نذر ہو گیا۔ اس وقت کا مدرسہ موجودہ مدرسہ سے چھوٹا تھا۔ لیکن پھر دو سال بعد ۱۹۶۲ء میں وہ زیادہ بڑے اور وسیع مدرسہ کی صورت میں قائم ہو گیا۔ یہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ دنیا میں ناکامی کوئی چیز نہیں۔ عین ممکن ہے، پہلی بار ناکام ہونے کے بعد آدمی دوسری بار پہلے سے بھی زیادہ بڑی کامیابی حاصل کر لے ۔ اس مدرسہ میں طلبہ واساتذہ کا ایک جلسہ ہوا جس سے میں نے مختصر خطاب کیا۔ جلسہ کو شروع کرتے ہوئے عزیز الرحمن صاحب نے یہ شعر پڑھا : فکر عقبیٰ نہ خوف خدا ہے کیا نادان وہ آدمی ہے کام کرتا ہے دوزخ کا لیکن سوچتا ہے کہ جنت ملے گی ۴ نومبر کو ساڑھے بارہ بجے مدرسہ جامعہ اسلامیہ (سمیرا) سے ہم لوگ دوبارہ بتیا کے لئے روانہ ہوئے۔ راستہ میں اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ دنیا میں کام کرنے کے لئے صرف اخلاص کافی نہیں، اسی کے ساتھ لازمی طور پر ڈسپلن بھی ضروری ہے۔ کوئی آدمی بالفرض اخلاص کا پہاڑ ہو لیکن اگر اس کے اندر ڈسپلن نہ ہو تو وہ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ اخلاص اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی آخرت کی ناکامی سے محفوظ رہے۔ مگر موجودہ دنیا اسباب کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہاں اپنے عمل کو کامیاب بنانے کے لئے ڈسپلن ضروری ہے۔ ڈسپلن سے مراد منظم عمل ہے، اور منظم عمل کسی بھی بڑے کام کے لئے لازمی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ اسلام کا مکمل ضابطہ حیات ہونا دراصل ہر فرد کی اپنی اختیاری زندگی کا عنوان ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی پیش آمدہ صورت حال میں دیکھے کہ اس موقع کے لئے اسلام کی تعلیم کیا ہے اور پھر وہ اس پر اختیار نہ طور پر عمل کرے ۔ ۴ نومبر کی سہ پہر کو بتیا پہنچے۔ اس وقت وہاں خواتین کا پروگرام رکھا گیا تھا۔ ہمارے پہنچنے سے پہلے خواتین وہاں جمع ہو چکی تھیں۔ یہاں میں نے اسلام اور خواتین کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ شاہد جمال صاحب کی نوٹ بک پر میں نے یہ جملہ لکھا: عذر ہر ایک کو پیش آتے ہیں، دانش مند وہ ہے جو عذر کو استعمال نہ کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues