تاریخ دعوت حق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۱، صفحہ ۴۴
بہت گہرے معانی ہوتے ہیں۔ بہار کے کئی لوگوں نے بہار والوں کے بارے میں اپنی رائے بتاتے ہوئے کہا کہ بہار والوں کا ایک خاص مزاج ہے کہ وہ سنتے زیادہ ہیں اور بولتے کم ہیں۔
جناب سرفراز احمد صاحب (۲۳ سال) سپیادیوراج کے رہنے والے ہیں۔ وہ ایک مکینیکل انجینئر ہیں۔ بظاہر ان کو اپنی ڈگری کے اعتبار سے خوش اور مطمئن ہونا چاہئے مگر وہ مایوسی کا شکار ہو رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ اپنی زندگی کی قدر کرنا سیکھئے، اپنے آپ کو تباہی سے بچائیے اور اس کا واحد راز یہ ہے کہ آپ اپنی آرزوؤں کو اتنا گھٹائیے کہ جو کچھ آپ کو ملے وہی آپ کو کافی نظر آئے۔
میں نے کہا کہ یہ مشورہ میں صرف آپ کو نہیں دے رہا ہوں بلکہ اللہ کے فضل سے میں خود اسی پر قائم ہوں۔ میں نے اپنی مادی خواہشوں کو اتنا زیادہ کم کر رکھا ہے کہ جو کچھ بھی میرے پاس ہے وہی مجھے زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ بیشتر لوگ جو مادی اعتبار سے مایوسی کے شکار ہوتے ہیں ان کی اصل مشکل یہ ہے کہ ان کے اندر صحیح مزاج نہیں ہوتا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے لئے اتنے زیادہ کے طالب ہوتے ہیں کہ ہر ملنے والی چیز انہیں کم دکھائی دیتی ہے۔
۴ نومبر کی رات کو نمازِ عشاء کے بعد مدرسہ تعلیم القرآن سپیادیوراج کے وسیع میدان میں عمومی جلسہ ہوا۔ اس جلسہ میں مدرسہ کے طلباء اور اساتذہ کے علاوہ بڑی تعداد میں اطراف کے لوگ شریک ہوئے۔ یہاں میری تقریر کا موضوع دعوت تھا۔ میں نے اپنی تقریر میں چند باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ دعوت دوسرے کے درد کو اپنے سینہ میں محسوس کرنے کا نام ہے۔ درد مند دل ہی دعوت کا کام کر سکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ دعوت کا نقطہ آغاز یہ ہے کہ داعی اورمدعو کے درمیان معتدل فضا ہو، تعصب و نفرت کا ماحول نہ ہو۔ اس قسم کے ماحول کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مدعو جو بات سنتا ہے اس پر وہ ٹھنڈے دل سے سوچتا ہے۔ کوئی منفی احساس اس کی سوچ کے عمل میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ہمیں دو قسم کے کام کرنے ہیں، ایک طرف مسلمانوں کی اصلاح اور دوسری طرف غیر مسلموں میں دین کی اشاعت۔ یہ دونوں ہی کام یکساں طور پر اہم ہیں۔ ضرورت ہے کہ تقسیم کار کے اصول پر دونوں کام کو مؤثر انداز میں انجام دیا جائے۔
۵ نومبر کی صبح کو مدرسہ تعلیم القرآن کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی گئی۔ پوری مسجد بھری ہوئی تھی۔ پروگرام میں شرکت کے لئے باہر کے لوگ بھی آئے تھے۔ مثلاً فجر کی نماز کے بعد حافظ ممتاز عالم سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں کھیر نیا کار رہنے والا ہوں۔ میں کلو میٹر سے چل کر صرف آپ کی بات سننے کو آیا ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2001 All issues