Al-Risala · April 2001 · page 13

اقامت الدین، تفرق فی الدین

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۱۳

کر آنا فانا کروڑ پتی بننے کا خواب دیکھے، یا تجارت کے نام پر جلسہ جلوس اور احتجاج اور مطالبہ کی مہم چلائے اور سمجھے کہ اس طرح وہ اپنی تجارتی منزل پر پہنچ جائے گا تو یہ سب اس کے لئے غلط رخ پر بھٹکنے کی صورتیں ہوں گی۔ ایسا تاجر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ تمام صورتیں کسی تاجر کے لئے رخ سے بے رخ ہونے کی صورتیں ہیں اور جو شخص رخ سے بے رخ ہو جائے اس کے لئے اس دنیا میں کوئی کامیابی نہیں۔

یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ دین کی بھی ایک صراط مستقیم ہے اور ایک اس میں بھٹکنے کے راستے ہیں۔ صراط مستقیم پر چلنے کو قرآن میں اقامت دین کہا گیا ہے اور ادھر ادھر کے راستوں میں بھٹکنے کو تفرق في الدين شورٰ ی ۱۳)۔

دین کی صراط مستقیم پر قائم ہونا یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کو اپنا سب کچھ بنائے، وہ اسی سے سب سے زیادہ ڈرے، وہ اسی سے سب سے زیادہ محبت کرے۔ اس کو سب سے زیادہ فکر آخرت کی ہو۔ وہ ہر معاملہ کو آخرت کے نقطہ نظر سے دیکھتا ہو۔ اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہو کہ وہ جہنم کے عذاب سے بچ جائے اور اس کی سب سے بڑی طلب یہ ہو کہ خدا اس کو جنت میں داخل کرے۔ وہ دنیا میں ذمہ دارانہ زندگی گزارے۔ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں اس کا رویہ احتیاط اور تقویٰ کا رویہ ہو نہ کہ آزادی اور بے قیدی کا رویہ۔ یہ دین کا سیدھا راستہ ہے۔ جو اس پر چلے گا وہ لازماً خدا کو پالے گا۔ وہ اس کی رحمت ونصرت میں حصہ دار بنایا جائے گا۔ سیدھا راستہ ہی آدمی کو منزل تک پہنچاتا ہے۔

اس کے برعکس دین میں متفرق ہونا یہ ہے کہ دین کا کوئی لفظ بول کر ایک غیر متعلق قسم کی دھوم مچائی جائے۔ مثلاً توحید کا نام لے کر اس قسم کی بحثیں شروع کر دی جائیں کہ خدا کا ایک جسمانی وجود ہے یا ایک روحانی وجود۔ وہ صرف عادل ہے یا ظلم پر بھی قادر ہے، وغیرہ۔ یا عبادت کا نام لے کر فضائل عبادت کی طلسماتی کہانیاں سنائی جانے لگیں یا مسائل عبادت میں فنی مو شگافیاں کر کے نئی نئی لامتناہی بحثوں کا آغاز کر دیا جائے۔ کوئی اسلام کے نظام عدل کو قائم کرنے کے نام پر

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page