اقامت الدین، تفرق فی الدین
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۱۴
"ظالم حکمرانوں" کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے اکھیڑ پچھاڑ شروع کر دے۔ کوئی یہ نظر بنائے کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ اور مکمل نظام سیاسی اقتدار کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا لئے سب سے پہلا کام حکومت پر قبضہ کرنا ہے۔ یہ کہہ کر وہ سارے دین کو سیاست بازی کے پر چلا دے۔
اس قسم کی تمام صورتیں دین کی صراط مستقیم سے بھٹکنے کی صورتیں ہیں۔ وہ قرآن الفاظ میں تفرق فی الدین ہے نہ کہ اقامت دین (شوریٰ ۱۳)۔ یہ ٹیڑھے راستے ہیں، اور ٹیڑ راستہ پر چلنے والا آدمی قرآن کے الفاظ میں کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچتا۔ مسلمانوں کے درمیان اسلام کے نام سے کوئی سرگرمیاں جاری ہو تو اس کے اسلامی ہونے کے لئے یہی کافی نہیں کہ اس کے علم بردار اسلام کا نام لے رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ضرور ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ یہ لوگ اسلام کی صراط مستقیم پر چل رہے ہیں یا ٹیڑھے اور تنگ راستو میں دوڑ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی تحریک "اقامت دین" کے نام پر اٹھے تب بھی یہ ممکن ہے کہ وہ بظاہر اقامت دین کا نام لے، مگر حقیقتاً اس کی سرگرمی تفرق فی الدین کے خانہ میں جانے والی ہوں انتہائی ضروری ہے کہ اسلام کا نہایت گہرا مطالعہ کیا جائے تاکہ آدمی تفرق فی الدین سے بچے، اور حقیقی معنوں میں دین کو اپنی زندگی میں اختیار کرنے والا بنے۔ اقامت دین اور تفرق فی الدین شرع لكم من الدين ما وصى به اللہ نے تمہارے لئے دین سے وہی چیز مقرر کی جس کا نوحا والذى اوحينا اليك وما اُس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے وصينا به ابراهيم و موسى تمہاری طرف کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور وعيسى ان اقيموا الدين ولا موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا کہ قائم رکھو دین کو اور اس میں تفرقوا فيه كبر على المشركين متفرق نہ ہو۔ مشرکین کو وہ بات بہت گراں گزرتی
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues