اقامت الدین، تفرق فی الدین
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۱۵
ما تدعوهم اليه الله يجتبى اليه من ہے جس کی طرف تم ان کو بلاتے ہو۔ اللہ اپنی طرف يشاء ويهدي اليه من ينيب کھنچ لیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ اپنی طرف اس کی (شوریٰ ۱۳) رہنمائی کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔
اقامت کے معنی ہیں سیدھا کرنا۔ قرآن میں یہی لفظ جھکی ہوئی دیوار کو سیدھا کر دینے کے معنی میں آیا ہے (کہف ۷۷) تفرق کا لفظ تجمع کی ضد ہے۔ اس کا مطلب ہے جدا ہونا۔ قرآن میں یہ لفظ ایسے موقع پر استعمال ہوا ہے جب کہ آدمی اصل شاہراہ کو چھوڑ کر کنارے کے ذیلی راستوں میں بھٹک جائے (انعام ۱۵۳) آیت میں الدین سے مراد توحید اور صرف ایک خدا کی عبادت کرنا ہے۔ یہی وہ دین ہے جو تمام نبیوں کو دیا گیا (وما ارسلنا من قبلك من رسول الا نوحى اليه انه لا اله الا انا فاعبدون ، (انبیاء ۲۵) مطلب یہ ہے کہ خدا نے تمام نبیوں کو ایک ہی دین دیا تھا اور وہ توحید کا دین تھا نہ کہ شرک کا دین۔ اس لئے تم اسی دین توحید پر پوری طرح قائم رہو، اس میں شاخیں نکال کر اپنی توجهات کو ادھر ادھر نہ پھیرو۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں جو حکم ہے وہ اقامت بمقابلہ عدم اقامت نہیں ہے بلکہ اقامت بمقابلہ تفرق ہے۔ یعنی مطلق طور پر یہ نہیں کہا گیا ہے کہ دین کو قائم کرو اور دین کو قائم کئے بغیر نہ رہو۔ بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ ”الدین“ کو قائم کرو اور ”الدین“ میں تفرق نہ کرو۔ مطلب یہ ہوا کہ خدا نے جو الدین (اصل دین) اتارا ہے صرف اسی کی اقامت اور پیروی میں لگو، ایسا مت کرو کہ اس اصل دین میں دوسرے راستے نکال کر اس میں متفرق ہو جاؤ۔ تمہاری توجہ اصل دین پر لگے نہ کہ متفرق پہلوؤں میں بکھر جائے۔
رمضان کے مہینہ کی ایک شام کو جب کہ راقم الحروف بھوک پیاس سے نڈھال ہو رہا تھا۔ میری زبان سے نکلا: کھانا بھی خدا کی کیسی عجیب نعمت ہے، ایک دن بھی نہ ملے تو آدمی کا برا حال ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر ایک صاحب نے کہا: آج کل لوگ کمزور ہو گئے ہیں۔ ورنہ پہلے زمانہ میں ایک دن کیا چار دن لوگ بھوکے پیاسے رہ جاتے تھے۔ میں نے کہا ہاں، مگر وہ بھی مستقل
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues