Al-Risala · April 2001 · page 16

اقامت الدین، تفرق فی الدین

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۱۶

ہو کے نہیں رہ سکتے تھے۔ اس واقعہ میں مذکورہ بزرگ کا جملہ اصل بات سے تفرق کی ایک مثال ہے۔ کہنے والے کا منشا اصلاً کھانے کی اہمیت پر زور دینا تھا۔ "ایک دن" کا لفظ اس میں محض اضافی تھا۔ مگر سننے والے نے اسی لفظ کو لے لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بات اپنے رخ سے ہٹ کر غیر متعلق پہلو کی طرف مڑ گئی۔ موصوف اگر کھانے کی "نعمت" کے پہلو کو ابھارتے تو یہ کہی ہوئی بات کی اقامت ہوتی۔ جب انھوں نے "ایک دن" کے پہلو کو لے کر اس پر تقریر شروع کر دی تو انھوں نے گویا اصل بات سے تفرق کیا۔ وہ شاہراہِ کلام سے جدا ہو گئے۔

اب ایک اور مثال لیجئے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان تمام ملکوں میں کسی نہ کسی طاقت کے ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔ کہیں کسی اقتصادی طاقت کا، کہیں کسی اکثریتی طاقت کا، کہیں کسی سیاسی اور فوجی طاقت کا۔ اس مسئلہ کا حقیقی حل صرف اعداد قوت (انفال (۶۰) ہے۔ یعنی مسلمانوں کا طاقت ور ہونا۔ ظلم و زیادتی ہمیشہ بے طاقتی کی سزا ہوتی ہے اور اپنے آپ کو طاقت ور بنا کر ہی اس سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ طاقت ور بنانے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو علم و شعور سے آراستہ کیا جائے، ان میں باہمی اتحاد پیدا کیا جائے، ان کو جدید فکری اور عملی قوتوں سے مسلح کیا جائے۔۔ ان پہلوؤں سے تیار ہونے کا نام طاقت ور ہونا ہے اور جو قوم ان چیزوں میں طاقتور ہو جائے اس کے اوپر کوئی ظالم، ظلم کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔

اس کے برعکس دوسرا طریقہ یہ ہے کہ احتجاج اور مطالبات کا لفظی طوفان برپاکیاجائے جلسے جلوس کی دھوم مچائی جائے۔ تقریروں اور تجویزوں کا سیلاب بہایا جائے۔ مگر اس قسم کی تمام چیزیں محض وقتی ہنگامے ہیں جن کا کوئی بھی حقیقی فائدہ قوم کو ملنے والا نہیں۔ ان دونوں طریقوں میں سے پہلا طریقہ ملت کی اقامت کا طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ ملت کے مسئلہ سے تفرق کا طریقہ۔ پہلا کام اصل کام ہے جب کہ دوسرا کام اصل کام کی نسبت سے غیر متعلق کام، وہ اپنے انجام کے اعتبار سے ملت کے محاذ سے متفرق ہونا ہے نہ کہ ملت کے محاذ پر جد و جہد کرنا۔ ان مثالوں سے اقامت دین اور تفرق فی الدین کا مطلب سمجھا جا سکتا ہے۔ مذکورہ آیت میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page