Al-Risala · April 2001 · page 17

اقامت الدین، تفرق فی الدین

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۱۷

”الدین“ سے مراد وہ اصل دین ہے جو تمام نبیوں پر اترا۔ یعنی توحید۔ توحید سے مراد ہے ۔ اللہ کوتنہاخالق اورمالک اورمعبود جاننا، اسی پر بھروسہ کرنا، اسی سے ڈرنا اور اسی سے محبت کرنا، اپنے تمام بہترین جذبات کو اسی کی طرف متوجہ کر دینا۔ اپنا سب کچھ صرف اللہ کو بنا لینا۔ اللہ سے یہ وابستگی جب کسی کے اندر حقیقی معنوں میں پیدا ہوتی ہے تو وہی آدمی کی زندگی بن جاتی ہے۔ وہ اس کی پوری زندگی کو کچھ سے کچھ کر دیتی ہے۔ آدمی کا سوچنا، اس کا بولنا، اس کا عمل کرنا، اس کا لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنا، اس کا مختلف حالات میں ردِ عمل ظاہر کرنا، سب اسی کے تابع ہو جاتے ہیں۔ آدمی اندر سے باہر تک پوری طرح خدا کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ الدین (توحید) کو اس طرح اپنے اندر سمونے کا نام اقامت دین ہے۔ یہ اقامت دین اولاً فرد کے اپنے اندر متحقق ہوتا ہے اور اس کے بعد حسبِ حالات وہ اجتماعی زندگی میں ظاہر ہوتا چلا جاتا ہے۔

اس کے مقابلہ میں تفرق فی الدین یہ ہے کہ اصل دین کے ارد گرد غیر متعلق بحثیں نکال کر اس کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیا جائے۔ مثلاً اسلامی عقائد میں خود ساختہ کلامی بحثیں چھیڑنا، اسلامی عبادات میں بطورِ خود مسائل وضع کر کے فقہی جھگڑے کھڑے کرنا۔ اسلامی کیفیات پیدا کرنے کے نام پر نئی نئی ”روحانی“ ورزشیں تجویز کرنا۔ اور لوگوں میں اس کو رواج دینا۔ اسی طرح یہ بھی تفرق فی الدین ہے کہ ”توحید“ کے علاوہ دوسری دوسری چیزوں کو عنوان بنا کر تحریکیں چلائی جائیں۔ مثلاً خدائی حکومت قائم کرنے کے نام پر، اسلام کی عظمتِ رفتہ کو واپس لانے کے نام پر، خیر الامم کو اس کے مقامِ بلند کی طرف لے جانے کے نام پر، فساد فی الارض اور طاغوتی نظام کو ختم کرنے کے نام پر، وغیرہ۔ اقامت دین حقیقی معنوں میں موحد بننے کا نام ہے اور تفرق فی الدین دین کے نام پر دوسری چیزوں میں متفرق ہونے کا۔ قدیم حاملینِ شریعت اسی قسم کے تفرق میں مبتلا ہو گئے تھے، چنانچہ ان کے بارہ میں کہا گیا:

وما تفرق الذین اوتوا الكتاب الا من بعد ما - اور اہل کتاب واضح دلیل آنے کے بعد بھی دین جائتهم البينة . وما امروا الا ليعبدوا الله میں متفرق ہو گئے۔ حالاں کہ ان کو یہی حکم ہوا تھا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page