Al-Risala · April 2001 · page 18

اقامت الدین، تفرق فی الدین

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۱۸

مخلصين له الدين حنفاء ويقيموا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں دین کو اس کے الصلوة ويوتوا الزکوة و ذلك دين خالص کرکے ،بالکل یکسو ہو کر،اور نماز قائم کریں اور زکوة ادا کریں اور یہی ہے درست دین۔

دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے خارجی ہنگامے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ کی دنیا میں بسیرا لینے کا نام ہے۔ دین دار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی فطرت کی اس سطح پر جینے لگے جس سطح پر خدا کی دوسری مخلوقات جی رہی ہیں۔ اس کا شعور اللہ سے مل جائے۔ اس کی یادوں میںاللہ بسا ہوا ہو۔ اس کے پر شوق جذبات کا مرکز صرف اللہ بن جائے۔ جب کوئی شخص خدا کو اس طرح پاتا ہے تو وہی اس کا مطلوب ومقصود بن جاتا ہے۔ اس کی سرگرمیوں کا رخ تمام تر خدا کی طرف ہو جاتا ہے۔ اخلاق و معاملات میں وہ وہی کرنے لگتا ہے جو اس کا خدا اس سے چاہتا ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جبکہ اپنے جذبات اور اپنی مصلحتوں کو اس کی خاطر قربان کر دینا پڑے۔ قرآن میں یہود و نصاریٰ کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان کی برائیاں ان سے دور کر دیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں داخل کرتے۔ اور اگر وہ قائم کرتے تورات اور انجیل کو اور جو ان کی طرف ان کے رب کے پاس سے اترا تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے، ان میں کچھ لوگ سیدھی راہ پر ہیں اور بہت سے ان میں برے کام کر رہے ہیں (مائدہ ۶۵۔ ٦٦) اس آیت میں ایمان و تقویٰ اور تورات و انجیل کی اقامت دونوں کو ہم معنی الفاظ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ یہود و نصاریٰ کے لئے آسمانی کتاب کی اقامت کا مطلب یہ تھا کہ وہ ایمان لائیں اور تقویٰ کی زندگی اختیار کریں۔ یہی سورہ شوریٰ میں اقامت دین کا مطلب بھی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی حقیقی معنوں میں اللہ کا مومن بن جائے۔ وہ دنیا کی زندگی میں اس سے ڈرنے لگے۔ صرف ایک اللہ اس کے ذہن کا اثاثہ اور اس کے قلب کا سرمایہ ہو۔ اس کا اللہ سے تعلق اتنا گہرا اور اتنا زندہ ہو کہ وہ اس کے اوپر مستقل نگراں بن جائے۔ پر سکون حالات ہوں یا جذباتی ہیجان کا وقت ہو، ہر حال میں وہ اللہ سے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page