اقامت الدین، تفرق فی الدین
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۱۹
ڈرے اور ہر معاملہ میں وہ اس کی مرضی کا پابند ہے۔
اقامت دین اصلاً انفرادی طور پر اللہ کے دین پر قائم ہونے کا نام ہے۔ مگر جب بہت سے افراد اللہ کے دین پر قائم ہو جائیں تو حالات کے بقدر اس کے اجاعی نتائج بھی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں، ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک درخت ہو تو وہ صرف ایک درخت ہے اور بہت سے درخت ہوں تو ان کے مجموعہ سے ایک باغ وجود میں آجاتا ہے۔ تاہم اجتماعی چیزیں اقامت دین کا بالواسطہ نتیجہ ہیں نہ کہ اس کا براہ راست نشانہ۔
تفرق فی الدین کا مطلب دین سے الگ ہونا نہیں ہے بلکہ دین کی شاہراہ سے الگ ہونا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ایک آیت پر غور کیجئے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۶ میں ارشاد ہوا ہے: ”کہو، آؤ میںتم کو سناؤں وہ چیزیں جو تم پر تمہارے رب نے حرام کی ہیں۔ یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تم کو بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی۔ اور بے شرمی کی باتوں کے قریب نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی۔ اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔ یہ باتیں ہیں جن کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔ اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریق پر جو بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے۔ اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم کسی شخص پر اس کے تحمّل سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے۔ اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار کا کیوں نہ ہو۔ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ ان باتوں کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس تم اسی پر چلو اور دوسری راہوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو اللہ کے راستہ سے جُدا کر دیں گی۔ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے تاکہ تم بچو۔ “ (الانعام ۱۵۲-۱۵۳) اس سے معلوم ہو اکِہ دین کی ایک شاہراہ ہے اور اس کے دائیں بائیں بہت سی پگڈنڈیاں نکلتی ہیں۔ مومن وہ ہے جو شاہراہ پر چلے اور ادھر اُدھر کی پگڈنڈیوں میں نہ کھو جائے ۔ دین کی شاہراہ یہ ہے کہ آدمی صرف ایک خدا سے اپنا تعلق جوڑے، خدا کی خدائی میں کسی اور کو شامل نہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues