Al-Risala · April 2001 · page 26

اقامت الدین، تفرق فی الدین

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۲۶

لفظ دین کے یہ تمام معانی مراد ہیں، ایک غیر علمی بات ہے۔ کیوں کہ لفظ کا مفہوم ہمیشہ سیاق کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے نہ کہ مختلف مفہومات کی گنتی سے۔ اس طریق استدلال کی غلطی اس سے واضح ہے کہ قرآن کی پہلی سورہ میں دین کا لفظ ”جز ا“ کے معنی میں آیا ہے۔ اب اگر مذکورہ طریق استدلال کو صحیح سمجھا جائے تواقامت دین کے مفہوم میں یہ بھی شامل کرنا پڑے گا کہ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ جدوجہد کر کے روزِ جزا کو برپا کریں تاکہ لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جاسکے۔ پھر کیا اس انقلابی تعبیر کے دعویدار اپنے دین کو مکمل کرنے کے لئے مالک یوم الدین بننے کو بھی پریشان کن مناظر بھی ٹیلیویژن پر دکھائے جائیں گے۔ اپنے پروگرام میں شامل کریں گے۔

لیکن ٹیلیویژن نے اگر اس منفی پہلو کو اپنا یا ین ، جب تک توں ۸۔ اقيموا الدين کو اساسات دین کی اقامت کے معنی میں لینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ " موٹی موٹی تعلیمات کو لے لیا اور باقی سب کو چھوڑ دی1۔ اللہ " اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس متفق علیہ دین کو پکڑو جو اصلاً اور دائماً مطلوب ہے۔ فروعی اور اختلافی چیزوں کو مدار اقامت نہ بناؤ۔ اس سے مراد " موٹی موٹی تعلیمات " نہیں ہیں بلکہ وہ اصلی اور حقیقی تعلیمات ہیں جن پر آخرت کی بنیاد ہے (جیسا کہ آگے ہم دیکھ رہے ہیں کہ قرآن کریم نے مختلف مقامات پر تقریر کے دوران اس کی مزید توضیح نجات کا انحصار ہے۔ انبیاء کی غیر اختلافی تعلیمات کیا طور پر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ چند حوالے ملاحظہ ہوں۔ ا۔ اللہ کے سوا کسی کو الہ نہ بنانا ۲۔ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا ۳۔ اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا ۴۔ رزق طیب کھانا اور عمل صالح کرنا ۵۔ ایک دوسرے کے ساتھ انصاف برتنا ۶۔ دوسروں کی ڈالی ہوئی اذیت پر صبر کرنا ۷۔ دعوت حق کا ساتھ دینا ۸۔ آگ یا جہنم سے ڈرنا اور جنت کا خوش خبری ھیں ۔ قرآن کے تتبع سے اس کو واضح ۲۵ الانبیاء ۱۴ فصلت ۲ النحل ۵۱ المومشون ۵۲ الحدید ۳۵۔ الاحقاف ۸۱ آل عمران کو جو تم نے اپنے ہاں | رہائش دی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page