اقامت الدین، تفرق فی الدین
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۲۷
یہی تمام انبیاء کا دین رہا ہے اور یہی وہ دین ہے جو اصلاً اور حقیقۃً اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ ظاہری اعمال بھی وہی مقبول ہیں جن میں مندرجہ بالا تعلیمات کی روح پائی جائے۔ اس کے بغیر کسی عمل کی کوئی قیمت نہیں۔ مزید یہ کہ انہیں تعلیمات میں اللہ کا پورا دین آ جاتا ہے۔ جو شخص ان چیزوں پر قائم ہو جائے وہ گویا پورے دین پر قائم ہو گیا۔ اللہ کے نزدیک اس نے اپنے دین کو کامل کر لیا۔ دین اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کوئی خارجی ”نظام“ نہیں ہے جس کو اقتدار پر قبضہ کر کے لوگوں کے اوپر نافذ کیا جائے۔
دین حقیقتاً آدمی کی اپنی زندگی کا نقشہ ہے۔ آدمی کا اپنا وجود جس کے ساتھ وہ صبح و شام جی رہا ہے، جس کو لے کر وہ پیدا ہوتا ہے اور جس کو لے کر وہ مر جاتا ہے، اس وجود کودین دار بنانا اور اس کو ہمہ تن اللہ کی مرضیات پر ڈھال لینا ہی دراصل اقامت دین ہے۔ یہ انسانی وجود کسی قانون یا کسی سیاسی ادارہ کی گرفت سے باہر کی چیز ہے۔ یہ صرف آدمی کے اپنے ارادہ کی گرفت میں آتا ہے۔ اس پر کسی دوسرے کا حکم نہیں چلتا بلکہ صرف اپنا حکم چلتا ہے۔ اسی انسانی وجود پر خود اپنے ارادہ سے دین کو غالب کرنے کا نام اقامت دین ہے نہ کہ حکمرانوں سے سیاسی منازعت کرنے کا یا دوسروں کی پیٹھ پر کوڑا مارنے کا۔
سیاسی اقتدار بھی بلاشبہ اسلام کا ایک جز ہے۔ مگر وہ اہل اسلام پر اللہ کا انعام (نور ۵۵) ہے۔ یہ انعام صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ اہل اسلام کا کوئی گروہ قابل لحاظ تعداد میں اپنے اوپر مذکورہ دین کو قائم کر چکا ہو۔ اساسات دین کی اقامت کے بعد ہی شرائع دین کی اقامت کے مواقع کھولے جاتے ہیں۔ اصل دین پر خود قائم ہو جانا گویا اپنی پیٹھ کو ”کوڑے“ کے لئے پیش کر دینا ہے۔ جو لوگ اس خود سپردگی کا ثبوت دے دیں انہیں کو دوسروں کی پیٹھ پر کوڑا مارنے کا سیاسی اجازت نامہ عطا ہوتا ہے۔ خود سپردگی کی اس کیفیت کے بغیر لوگوں کو کوڑا مارنا خدا کی زمین میں صرف فساد برپا کرنے کا باعث ہوتا ہے نہ کہ انصاف قائم کرنے کا۔ ایسے لوگ جو دوسروں کی پیٹھ پر کوڑا لگانے کے لئے تو بہت بے قرار ہوں، مگر خود اپنی ”پیٹھ“ پر لفظی تنقید کو بھی برداشت نہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues