Al-Risala · April 2001 · page 28

اقامت الدین، تفرق فی الدین

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۲۸

کریں، وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہیں۔ قیامت میں ان سے پوچھا جائے گا کہ جب تمہاری انانیت کا یہ حال تھا کہ تم لفظی کوڑے کی مار برداشت کرنے کے لئے بھی تیار نہ تھے تو تم کو کیا حق تھا کہ دوسروں کے اوپر مادی کوڑے برسانے کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ اس سیاسی تعبیر کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ جو چیز اللہ کے نزدیک اہم تھی وہ لوگوں کے نزدیک غیر اہم بن گئی اور جو اللہ کے نزدیک غیر اہم تھی وہ لوگوں کے نزدیک اہم قرار پائی۔ مذکورہ مفسر قیموالدین کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں: ’’انبیاء علیہم السلام کو جب اس دین کے قائم کرنے اور قائم رکھنے کا حکم دیا گیا تو اس سے مراد صرف اتنی بات نہ تھی کہ وہ خود اس دین پر عمل کریں۔ اور اتنی بات بھی نہ تھی کہ وہ دوسروں میں اس کی تبلیغ کریں تاکہ لوگ اس کا برحق ہونا تسلیم کرلیں، بلکہ یہ بھی تھی کہ جب لوگ اسے تسلیم کر لیں تو اس سے آگے بڑھ کر پورا کا پورا دین ان میں عملاً رائج اور نافذ کیا جائے۔ تاکہ اس کے مطابق عمل در آمد ہونے لگے اورہوتارہے اس میں شک نہیں کہ دعوت و تبلیغ اس کام کا لازمی ابتدائی مرحلہ ہے جس کے بغیر دوسرا مرحلہ پیش نہیں آسکتا۔ لیکن ہر صاحب عقل آدمی خود دیکھ سکتا ہے کہ اس حکم میں دعوت و تبلیغ کو مقصود کی حیثیت نہیں دی گئی ہے۔ بلکہ دین قائم کرنے اور قائم رکھنے کو مقصود قرار دیا گیا ہے۔ دعوت و تبلیغ اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ضرور ہے مگر بجائے خود مقصد نہیں ہے۔ کجا کہ کوئی شخص اسے انبیاء کے مشن کا مقصد وحید قرار دے بیٹھے۔ ‘‘ (صفحہ ۴۸۸) قرآن میں تمام انبیاء کے بارے میں صراحتہً یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ صرف تبلیغ (پہنچا دینے) پر مامور تھے۔ قوموں کو پوری طرح باخبر کر دینے کے بعد ذاتی ذمہ داری کی حد تک ان کا کام ختم ہو جاتا تھا۔ ’’قائم کرنا اور قائم رکھنا‘‘ تمام تر مدعو کے اپنے رد عمل پر منحصر ہے۔ اس کو انبیاء کی ذمہ داری کس طرح قرار دیا جاسکتا ہے۔ قرآن میں کوئی ایک آیت ایسی نہیں ہے جس میںنبیوں کے مشن کو ’’قائم (نافذ) کرنے اور قائم (نافذ) رکھنے‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page