اقامت الدین، تفرق فی الدین
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۲۹
اس کے برعکس کثرت سے ایسی آیتیں موجود ہیں جن میں پہنچادینے کو ان کا فرضی منصب بتایا گیا ہے ۔ مثلاً:
فهل على الرسل الا البلاغ المبين (النحل (۳۵) پس رسولوں پر ذمہ نہیں مگر پہنچادینا کھول کر۔ وما نرسل المرسلين الا مبشرين و منذرين اور نہیں بھیجتے ہیں ہم پیغمبروں کو مگر بشارت دینے والے اور ڈرانے والے۔
دعوتی جدوجہد کی عملی تفسیر انبیاء کرام کی زندگیاں ہیں۔ ہر نبی نے دعوت دین کے کام کو کامل اور مکمل صورت میں انجام دیا۔ اس لئے اس مہم کی اسی انجام دہی کو " مقصود “ کی حیثیت دی جائے گی جو تمام انبیاء کے یہاں مشترک طور پر پائی جاتی ہو۔ اور معلوم ہے کہ تمام انبیاء کے یہاں جو چیز مشترک طور پر پائی جاتی ہے وہ پہنچا دینا ہے نہ کہ " پورے کے پورے دین کو عملاً رائج و نافذ کر دینا ۔ یہ واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ دعوتی مشن کا اصل مقصود یہ ہے کہ مدعو تک خدا کا پیغام پوری طرح پہنچ جائے ۔ نہ کہ اس کو قائم کرنا اور قائم رکھنا ۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کا تعلق اہلیت سے ہے نہ کہ فرض سے۔ یعنی ایسا نہیں کہ مسلمانوں کا یہ لازمی فریضہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ سیاسی تحریک چلا کر حکومت قائم کریں۔ بلکہ درست بات یہ ہے کہ اللہ جب کسی گروہ کے اندر حکومت کی اہلیت پاتا ہے تو وہ اس کے حق میں ایسے اسباب پیدا کرتا ہے کہ اس کو حکومت و اقتدار کا منصب حاصل ہو جائے۔
جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے، یہ اہلیت بنیادی طور پر دو ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: يا داود إنا جعلناك خليفة فى الارض فاحكم بين الناس بالحق ولا تتبع الهوى (ص ۲۶) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حاکم کے لئے دو لازمی صفات مطلوب ہیں کہ وہ ذاتی خواہشات اور تعصبات سے اوپر اٹھ گیا ہو۔ اور یہ کہ وہ ہر حال میں حق اور عدل پر فیصلہ کرے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues