اقامت الدین، تفرق فی الدین
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۳۰
زمین کے سیاسی اقتدار فائز ہونے کی یہ لازمی شرط ہے۔ جو لوگ اپنے اندر یہ دونوں شرطیں پیدا کر لیں وہ اپنے آپ حکومت واقتدار کے مستحق ہو جائیں گے۔ ان دونوں شرطوں کے بغیر کسی بھی گروہ کو حکومت ملنے والی نہیں، اور اگر مل جائے تو وہ اس کے پاس باقی رہنے والی نہیں۔ خلاصه قرآن کے مطابق اقامت دین اور اقامت حکومت دونوں بالکل الگ الگ چیزیں ہیں۔ اقامت دین سے مراد دین کی انفرادی پیروی، اور اقامت حکومت سے مراد اسلامی قوانین کا اجتماعی نفاذ ہے۔ ایک فرد کا خدا کے دین کو اختیار کرنا صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ اس کے دل میں اس کا قوی ارادہ پیدا ہو جائے۔ دین کو سچائی کے طور پر دریافت کرنا، اللہ سے تقویٰ کا تعلق پیدا ہو جانا، آخرت کی جواب دہی کا شدید احساس، یہ وہ چیزیں ہیں جو ایک فرد کے اندر دین کی پیروی کا طاقتور ارادہ پیدا کرتی ہیں۔ اگر یہ محرکات آدمی کے دل کے اندر موجود نہ ہوں تو فرد کا دین الہی پر قائم ہونا ممکن نہیں۔
اجتماعی دائرہ میں اسلامی قوانین کے نفاذ کا تعلق سب سے زیادہ اس بات سے ہے معاشرہ کے اندر اس کی قبولیت کا مادہ پیدا ہو چکا ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلامی حکومت اوپر نافذ نہیں کی جاتی بلکہ خود معاشرہ کے اندر سے ابھرتی ہے۔ اسلام کے اجتماعی قوانین کے نفاذ لئے پہلا کام معاشرہ کو تیار کرنا ہے۔ اگر معاشرہ تیار نہ ہو تو محض سیاسی ہنگامہ آرائی سے اسلام حکومت کا قیام ممکن نہیں۔
برائی کا سرچشمہ کوئی حکمران گروہ نہیں ہے۔ برائی کا حقیقی سر چشمہ انسان کا اپنا نفس۔ جب تک نفس کی اصلاح نہ ہو، کوئی بھی خارجی تدبیر حقیقی دینی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی، نہ قر زندگی میں اور نہ معاشرہ کی زندگی میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues