Al-Risala · April 2001 · page 33

Besides abdomen they also have a special stomach

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۳۳

میں ۸ نومبر ۲۰۰۰ کو پیش آیا۔ یہ واقعہ اسی زمانہ کے اخباروں میں چھپا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آگرہ کے تاج محل کو دیکھنے کے لئے وہاں بہت سے لوگ اکٹھے تھے۔ اس وقت وہاں کلکتہ کا مشہور جادوگر پی۔ سی سارکار (P. C. Sorcar) آیا۔ اس نے ۲ منٹ کے لئے تاج محل کو ”غیر موجود“ کر دیا۔ دیکھنے والوں نے اچانک دیکھا کہ تاج محل دن کی روشنی میں ان کی نظروں سے غائب ہو گیا ہے۔ دو منٹ کے بعد تاج محل دوبارہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوا دکھائی دینے لگا۔ اس معاملہ کی وضاحت کرتے ہوئے خود مذکورہ جادوگر نے بتایا کہ میں نے تاج محل کو غیر موجود نہیں کیا تھا بلکہ صرف ایک ٹرک (trick) کے ذریعہ ایسی تدبیر کی تھی کہ تاج محل وقتی طور پر لوگوں کو دکھائی نہ دے۔ اس نے کہا کہ اس قسم کے جادو کی حقیقت یہ ہے کہ وہ وقتی طور پر تصرف کر کے انسان کی آنکھ اور چیز (object) کے در میان روشنی کا سلسلہ منقطع کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ چیز موجود ہوتے ہوئے بھی دیکھنے والوں کو دکھائی نہیں دیتی یا کسی اور صورت میں دکھائی دیتی ہے۔ حیدر آباد کے انگریزی اخباردکن ہیرالڈ (Deccan Herald) کے مطابق مذکورہ جادو گر نے اس معاملہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:

The Taj Mahal did not disappear, it was only out of sight. An object is said to have vanished when the light rays coming from that object cannot enter the eyes. If the rays coming from the object are bent, the image can be distorted or varished. (The Deccan Herald, Hyderabad, December 24, 2000)

بنگال کے مذکورہ جادو گر مسٹر سر کار نے مزید کہا کہ سائیں بابا جیسے لوگ جو دھوکا دکھاتے ہیں وہ سب میں بھی دکھا سکتا ہوں۔ فرق یہ ہے کہ سائیں بابا جیسے لوگ اپنے آپ کو گاڈ (God) کہتے ہیں، مگر میں اپنے آپ کو پر یٹینڈر (Pretender) کہتا ہوں۔

سوال

میرا کام ایسا ہے کہ مجھ کو زیادہ تر ہندوؤں کے در میان رہنا پڑتا ہے، ہندو لوگوں سے اکثر باتیں ہوتی ہیں۔ میں نے پایا ہے کہ ہندوؤں کو مسلمانوں سے دو سب سے بڑی شکایتیں ہیں۔ ایک یہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page