Al-Risala · April 2001 · page 34

Besides abdomen they also have a special stomach

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۳۴

کہ مسلم حکمرانوں، مثلاً اورنگ زیب نے ہندوؤں کے اوپر ظلم کیا، دوسری شکایت یہ ہے کہ مسلم لیڈروں نے ملک کا بٹوارہ کرایا، میں ان سے کہتا ہوں کہ یہ تو پہلے کی باتیں ہیں۔ آج کا ہندوستانی مسلمان تو ہندوؤں سے پوری طرح میل ملاپ کر کے رہنا چاہتا ہے مگر وہ لوگ میرے اس جواب پر مطمئن نہیں ہوتے، ایسی حالت میں رہنمائی فرمائیں کہ ہم کو کیا کرنا چاہئے۔ (ایک قاری الرسالہ) جواب اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ آپ یہ کہیں کہ ہم تو مسلمانوں کی نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اورنگ زیب اور مسٹر جناح کے زمانے میں تو ہم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ پھر ہمارے اوپر ان کے کئے کی ذمہ داری کیوں۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی عمل ایک مشترک عمل ہوتا ہے۔ قوم کے کچھ لوگ ایک عمل کریں اور قوم کے دوسرے افراد اس پر خاموش رہیں تو پوری قوم اس عمل میں شریک سمجھی جائے گی۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ افراد ہیں جو اعلان کے ساتھ اس عمل سے اپنے آپ کو ڈس اون (disown) کریں، یعنی اس سے اپنی بے تعلقی اور علیحدگی کا اعلان کر دیں۔ ہندوستانی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان معتدل تعلقات صرف اس وقت قائم ہو سکتے ہیں جب کہ وہ اعلان کے ساتھ مغل حکمرانوں یا تقسیم ہند کے لیڈروں سے اپنے آپ کو ڈس اون (disown) کریں، یہ کہنا کافی نہیں کہ ہم تو اس وقت موجود ہی نہ تھے۔ قرآن میں رسول اللہ کے ہم عصر یہودیوں کو پچھلے نبیوں کے قتل کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے (النساء ۱۵۵)۔ حالانکہ یہ لوگ یہودیوں کی بعد کی نسل سے تعلق رکھتے تھے، مگر چونکہ وہ اپنے پچھلے اکابر کے فعل سے اپنے آپ کو ڈس اون (disown) نہیں کرتے تھے اس لئے بعد کے یہودیوں کو بھی پچھلے یہودیوں کے ساتھ بریکٹ کر دیا گیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ مسلمان اپنے سابق حکمرانوں یا اپنے سابق لیڈروں کو ڈس اون (disown) کیوں نہیں کرتے۔ اس پر غور کیجئے تو ایک بے حد سنگین حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ مسلمان اسلام کی فکری عظمت پر کھڑے ہوئے نہیں ہیں، وہ بعد کو بننے والی مسلم تاریخ کی عظمت پر کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ اللہ کی عظمت کے بجائے اپنے سیاسی اکابر کی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page