Besides abdomen they also have a special stomach
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۳۵
عظمت میں جی رہے ہیں۔ ایسی حالت میں شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے سیاسی اکابر کو ڈس اون (disown) کیا تو وہ اچانک بے زمین ہو جائیں گے اس کے بعد عظمت کی کوئی اور زمین نہ ہوگی جس کے اوپر وہ پھر فخر طور پر کھڑے ہو سکیں۔ مزید یہ کہ اللہ کی دریافت آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتی ہے، جب کہ پُر عظمت تاریخ سے اس کو فخر کی غذا ملتی ہے۔ موجودہ مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر تواضع میں کوئی لذت نہیں پاتے، اس کے بر عکس فخر اور ناز میں جینا ان کو بہت اچھا معلوم ہوتا ہے حالانکہ مومن وہ ہے جو تواضع کی نفسیات میں جئے، نہ کہ فخر و ناز کی نفسیات میں۔
سوال
ماہنامہ الرسالہ کا شمارہ فروری ۲۰۰۱ دیکھا۔ میرے خیال سے یہ شمارہ ایک قسم کا نمبر ہے۔ میرے نزدیک اس کے مضامین کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے مختلف ملکوں میں جو سیاسی اور انقلابی تحریکیں اٹھائی گئیں ان کو آپ غیر اسلامی سمجھتے ہیں۔ مگر اس نقطہ نظر کے حامیوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ تحریکیں اسلام کے مطابق ہیں۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ : من رأى منكم منكراً فليغيرة بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه و ذلك اضعف الایمان (مشکوۃ المصابیح ۳/ ۱۴۲۱) اس فرمان رسول کے مطابق تغیر منکر مسلمانوں کا لازمی فریضہ ہے۔ یہ تحریکیں اسی فریضہ کو ادا کرنے کی کوشش ہیں۔ تغیر منکر کے فریضہ کو ادا کرنے کی دوسری اور کوشش کیا ہو سکتی ہے (ایک قاری الرسالہ، حیدر آباد) جواب آپ نے مذکورہ تحریکوں کی حمایت میں جس دلیل کا ذکر کیا ہے وہ صرف ایک مغالطہ ہے۔ وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ حضرات قرآن وحدیث کو اس طرح نہیں لیتے کہ خالی الذہن ہو کر اسلامی حکم کو معلوم کریں۔ بلکہ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، اس کو کسی نہ کسی طرح آیتوں اور حدیثوں کے حوالے سے صحیح ثابت کر سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues