Al-Risala · April 2001 · page 36

Besides abdomen they also have a special stomach

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۳۶

اب مذکورہ حدیث رسول پر غور کیجئے۔ حدیث کی اصل الفاظ کے مطابق، مسلمان کی ذمہ داری استطاعت کے بقدر ذاتی پیروی ہے، نہ کہ استطاعت کے دائرہ کو بڑھانے کے لئے دوسروں سے لڑائی چھیڑنا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بروقت جو استطاعت آپ کو حاصل ہے، اس استطاعت کے اعتبار سے آپ کو اپنی ممکن ذمہ داری ادا کرنا چاہئے۔ اپنے ممکن دائرہ کو چھوڑ کر غیر ممکن دائرہ پر قابض ہونے کے لئے ہنگامہ آرائی کرنا اس حکم شریعت کے خلاف ورزی ہے نہ کہ اس کی پیروی۔ سوال پہلے میں ایک گروہ سے وابستہ ہوا اور ان لوگوں کے ساتھ رہ کر میں نے چند مصنفوں کی کتابیں پڑھیں مثلاً سید قطب، سید احمد شہید وغیرہ۔ ان میں زیادہ تر جہاد بالسيف کا ذکر تھا۔ آخر کار میں بارہویں کا امتحان دیئے بغیر مجاہدین کے ساتھ چل پڑا اور میں تقریباً چار سال ان سے وابستہ رہا۔ پھر میں نے گھر والوں کو بھی چھوڑ دیا۔ گھر والوں کو بہت تکلیف ہوئی۔ ہمارے گھر کی مالی اور تعلیمی سرگرمیوں پر بُرا اثر پڑا۔ 1999 میں میں گرفتار ہوا اور اللہ پاک کی مرضی سے میری جان بچ گئی۔ اس کے بعد مجھے پولیس نے P.S.A (public safety act) کے مطابق نظر بند رکھا۔ جیل خانے میں میری ملاقات ایک معروف شخصیت سے ہوئی اس نے مجھے ایک کتاب (اسلام ایک تعارف) دی وہ آپ کی ہی لکھی ہوئی تھی۔ پھر میں نے آپ کی پچاس ساٹھ کتابوں کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد میرا ذہن بدل گیا میں نے پھر جیل میں (examination form) بھر دیا اور باقاعدہ طریقے سے میرا T.D.C کا امتحان conduct ہوا۔ اب میں دسمبر ۲۰۰۰ یعنی ۹ رمضان المبارک کورہا (release) ہوا۔ اب میری خواہش ہے کہ اسلام پر زندگی کو چلاؤں اور پڑھائی بھی کروں لیکن گھر کے حالات کچھ اچھے نہیں ہیں۔ اور اس وقت میری عمر 21 سال کی ہے یہ میرے کمانے کا بھی ٹائم ہے۔ مولانا صاحب آپ سے گذارش ہے کہ آپ آگے میری رہنمائی فرمائیے۔ (ایک مسلم نوجوان، کشمیر) جواب یہ صرف ایک مسلم نوجوان کی کہانی نہیں، بلکہ وہ موجودہ زمانہ کے لاکھوں مسلمانوں کی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page