Besides abdomen they also have a special stomach
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۳۷
کہانی ہے۔ موجودہ زمانے میں جہاد کے نام پر مختلف ملکوں میں جو انتہا پسندانہ تحریکیں چلائی انہوں نے بے شمار مسلم خاندانوں کو تباہ کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں نہ اسلام کو کچھ ملا اورنہ مسلمانوں کو۔ اس قسم کی تحریکیں بلاشبہ اسلامی تحریکیں نہیں اور نہ اس قسم کی عسکری سرگرمیار میاں اسلا جہاد ہیں۔ یہ سب ایک نادانی کارد عمل تھا جو اسلام کے نام پر کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی تحریک کو اس کے نتیجہ کے لحاظ سے دیکھنا چاہئے۔ جو تحریک لوگوں میں نفرت اور تشدد کو بھڑکائے وہ کبھی اسلامی تحریک نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح جو عسکری سرگرمی لوگوں کی تباہی میں اضافہ کرے وہ کبھی اسلامی جہاد نہیں ہو سکتا۔ جو نا پختہ نوجوان اس قسم کی تحریکوں کا شکار ہوتے ہیں وہ شاید اپنی کم فہمی کی بنا پر قابلِ معافی قرار پائیں مگر جو لوگ ان تحریکوں کی لیڈری کرتے ہیں وہ بلاشبہ ایک سنگین جرم کر رہے ہیں جو کسی طرح قابل معافی نہیں۔
سوال
قرآن میں آیا ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر جنت میں داخل کیا۔ پھر جنت سے نکال دیا اور زمین پر چھوڑ دیا اور اس کے بعد دنیا بنی شروع ہوئی۔ چونکہ ساری کائنات کے لوگ اسی جوڑے (حضرت آدم اور حضرت حوا) کے بعد دنیا میں آئے اور پہلا جوڑا یہی تھا۔ میرا ذہن یہ سوال کرتا ہے کہ اگر ہم آج کی دنیا میں دیکھیں تو مجھے اپنی زبان (lan- guage) اپنے ماں باپ سے ہی ملی ہے تو کیا وجہ ہے کہ اگر ہم سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد یعنی آدم کی اولاد ہیں تو ہماری زبان ایک کیوں نہیں ہے۔ یہ اتنی زبانیں کہاں سے پیداہوئیں ساری دنیا میں ایک زبان ہو نی چاہئے تھی جس کو سب سمجھ سکتے اور بول بھی سکتے۔ یعنی حضرت آدم کی زبان۔ (نذیر احمد صوفی، سری نگر)
جواب
یہ ایک کنفیوزن کی بات ہے نہ کہ حقیقی معنی میں کوئی سوال۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ضروری سوال اور غیر ضروری سوال میں فرق کرے ورنہ وہ ساری عمر ذہنی الجھنوں میں مبتلا رہے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues