Al-Risala · April 2001 · page 42

Besides abdomen they also have a special stomach

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۴۲

معلوم ہوا کہ آپ اور آپ کے گھر والے، سب کے سب، مذکورہ حدیث کی گویا ایک زندہ مثال ہیں۔ آپ لوگوں نے کسی ذاتی انٹرسٹ کے بغیر ایک مسافر کے بظاہر سخت مسئلہ کو جس طرح انتہائی دلچسپی اور لگن کے ساتھ اپنا مسئلہ بنایا اور حیرت انگیز طور پر چند گھنٹوں کے اندر اس کو حل کر دیا، یہ ایک ایسا انوکھا واقعہ تھا کہ اگر میں نے اس کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہوتا تو شاید مجھ کو یقین نہ آتا کہ اس دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں۔

کسی دوسرے شخص کے مسئلہ کو دیکھ کر تڑپ اٹھنا اور اس کو حل کرنے کے لئے متحرک ہو جانا ایک انتہائی اعلیٰ قسم کا انسانی وصف ہے۔ یہ وصف اس وقت اور زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے جب کہ صاحب مسئلہ نے اپنا مسئلہ پیش بھی نہ کیا ہو اور دوسرا شخص بطور خود اپنی اعلیٰ حساسیت کی بنا پر اس کے مسئلہ کو پوری طرح سمجھ لے اور کامل توجہ کے ساتھ اس کو حل کرنے میں لگ جائے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان اور حیوان کے درمیان یہ فرق ہے کہ انسان کے اندر تفکیری عمل (thinking process) جاری رہتا ہے جب کہ حیوان صرف اپنی جبلت (instinct) کے تحت کام کرتے ہیں۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ اگر حساسیت (sensitivity) نہ ہو تو محض تفکیری عمل زیادہ با معنی نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔

حساسیت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ سچائی کے اظہار کے بعد وہ اس کے انکار کا تحمل نہ کر سکے۔ حساسیت ہی آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ دوسرے کا درد اپنے سینہ میں محسوس کرے۔ حساسیت انسان کو روحانی ترقی کے اس درجہ تک پہنچاتی ہے جہاں وہ دوسرے کے مفاد کے لئے بھی اسی طرح تڑپ اٹھے جس طرح کوئی شخص اپنے ذاتی مفاد کے لئے تڑپتا ہے۔ حساسیت کے بغیر آدمی صرف ایک خوشنما روبوٹ (robot) ہے۔ جب کہ حساسیت کسی آدمی کو فرشتہ کے مرتبہ تک پہنچادیتی ہے۔ کسی آدمی کے اندر جتنی زیادہ حساسیت ہو اتنا ہی زیادہ وہ اعلیٰ انسان ہوگا اور اتنا ہی زیادہ اعلیٰ مومن۔ اسی مثبت حساسیت سے وہ اعلیٰ انسانی کیریکٹر بنتا ہے جس کو قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کہا جاسکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page