Besides abdomen they also have a special stomach
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۴۳
امداد باہمی کا جذبہ (co-operative spirit) انسانی ترقی کے لئے بے حد اہم ہے۔ دنیا میں وہی لوگ اعلیٰ ترقی حاصل کرتے ہیں جن کے اندر ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ ہو۔ اس کو قرآن میں تعاون (المائدہ ۲) کہا گیا ہے اور قرآنی احکام میں سے وہ ایک باقاعدہ حکم کی حیثیت رکھتا ہے۔ صحیح البخاری (کتاب الادب) میں ایک مستقل باب ان الفاظ کے ساتھ ہے : باب تعاون المؤمنین بعضهم بعضا۔
باہمی تعاون کا جذبہ ایک اعلیٰ انسانی جذبہ ہے۔ اس جذبہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دوسرے کی ضرورت کو بھی اتنا ہی اہم سمجھے جتنا اہم وہ اپنی ضرورت کو سمجھتا ہے۔ دوسرے کے کام کو پورا ہوتے ہوئے دیکھ کر وہ اتنا ہی خوش ہو جتنا وہ اپنے کام کو پورا کر کے خوش ہوتا ہے۔ آدمی اپنے انفرادی خول سے نکل کر پورے سماج کے ساتھ جڑ جائے۔ ذاتی دائرہ میں سوچنے کے بجائے وہ پوری انسانیت کے دائرہ میں سوچنے لگے۔ جس سماج میں یہ آفاقی مزاج ہو اس سماج میں افراد بھی اعلیٰ ترقی حاصل کرتے ہیں اور مجموعی اعتبار سے پورا سماج بھی۔ آپ اور آپ کے گھر والوں پر اللہ کی رحمت ہو۔ آپ لوگ انشاء اللہ اس حدیث کا مصداق ہیں جس میں رسول اللہ نے فرمایا: الله في عون العبد ما كان العبد في عون اخیه (مسند احمد) یعنی اللہ اس وقت تک بندہ کی مدد پر رہتاہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد پر رہے۔ اور اللہ جب کسی کی مدد کرے تو اس کی مدد برابری کے اصول پر نہیں ہوتی۔ اللہ اس کو اس سے بہت زیادہ دے دیتا ہے جتنا اس نے کسی دوسرے کو دیا تھا۔ آپ اور آپ کے گھر والوں کے اندر میں نے جن انسانی صفات (human qualities) کا تجربہ کیا وہ مجھے ساری زندگی یاد رہے گا۔ آپ اور آپ کی اہلیہ کو اور آپ کے بچوں کو اللہ اپنی رحمت اور نصرت عطا فرمائے۔ آپ لوگوں کو دنیا اور آخرت کی اعلیٰ کامیابیوں میں حصہ دار بنائے۔ سب کی خدمت میں سلام ودعا۔ 15جنوری 2001 دعا گو وحیدالدین
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues