Al-Risala · April 2001 · page 44

Besides abdomen they also have a special stomach

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۴۴

خبر نامہ اسلامی مرکز

ماہنامہ الرسالہ کے ایک قاری کی طرف سے ہمیں ایک تفصیلی خط (۷ دسمبر ۲۰۰۰) موصول ہوا ہے۔ موضوع کی اہمیت کی بنا پر اس خط کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ امید ہے کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔ کافی عرصہ پہلے میں نے عتیق احمد قاسمی صاحب کی کتاب ”فکر کی غلطی“ پڑھی تھی۔ اس وقت میرے ذہن میں آپ کے افکار و خیالات کے بارے میں طرح طرح کے شبہات پیدا ہو گئے تھے اور یہ سوال بھی پیدا ہو گیا تھا کہ آپ نے اس کتاب کا جواب کیوں نہیں دیا۔ لیکن اب جب کہ میں نے دوسری بار اس کتاب کا مطالعہ کیا تو میرا تاثر یہ ہے کہ یہ پوری کتاب بے وزن اور بے دلیل باتوں کا مجموعہ ہے۔ اور آپ کی خاموشی نے اس کتاب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے اور اس طرح یہ کتاب اپنی موت آپ مرگئی جیسے کہ یہ کتاب تھی ہی نہیں۔ اس کتاب میں آپ کی جن باتوں کو تنقید و تنقیص کا نشانہ بنایا گیا ہے، میں نے ان کو اصل ماخذوں سے جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کی، لیکن حق یہ ہے کہ مصنف کتاب نے اکثر مقامات پر خیانت و بددیانتی سے کام لیا ہے اور بیشتر اقتباس کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا ہے اور ان کی من مانی تاویل اور غلط معانی پہنا کر تلبیس سے کام لیا ہے۔ مصنف کتاب نے قرآنی آیات اور احادیث کے بارے میں آپ کے جن تشریحی نوٹوں کو تنقیص و تضحیک کا نشانہ بنایا ہے، میں نے ان کی صحیح تفسیر جاننے کے لئے قدیم مفسرین اور محدثین کی کتابوں کی طرف مراجعت کی تو مجھے شرح صدر کے ساتھ آپ کی باتوں سے مکمل اتفاق ہو گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کتاب تنقید کے معنی و تعریف سے سرے سے ناواقف ہیں، کیوں کہ کتاب کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب خود مصنف کی اپنی فکر کو غلط ٹھہراتی ہے نہ کہ اس کی فکر کو جس کی اس نے تنقید کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک مثال لیجئے۔ مصنف کتاب نے اپنے مقدمہ کے آغاز میں الرسالہ کے ایک شمارہ کے حوالے سے یہ اقتباس نقل کیا ہے۔ ”بخدا میرے لئے ایک رسمی عقیدہ نہیں ہے، خدا میری دریافت ہے، خدا کو میں نے دیکھا ہے، خدا کو میں نے چھوا ہے، خدا میری مثال صحرائے سینا کے اس پہاڑ کی ہے جس پر خدا اترا اور اس نے اس کی ہستی کے ریزے ریزے کر دئے۔ “ اس اقتباس پر مصنف کتاب نے یوں خامہ فرسائی کی ہے۔ ”یہ اقتباس پڑھ کر خدا جانے آپ کا ذہن کہاں جائے، شاید آپ یقین کر بیٹھے ہوں کہ یہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page