Besides abdomen they also have a special stomach
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۴۵
اقتباس غلام احمد قادیانی کی کسی کتاب کا ہے لیکن قیاس آرائی میں عجلت نہ کیجئے اور میری طرح آپ بھی یہ جان کر صدمے سے دوچار ہو جئے کہ یہ تحریر "علم جدید کا چیلنج" اور دوسری مفید کتابوں کے مصنف جناب وحید الدین خاں صاحب کی ہے۔ یہ خبر بظاہر ناقابل یقین ہے۔ اس لئے اگر یقین کرنے میں دشواری محسوس ہو تو جناب وحید الدین خاں کے ماہنامہ الرسالہ دسمبر ۱۹۸۶ کا شمارہ کھول کر صفحہ ۲۶ پر یہ اقتباس ملاحظہ کیجئے۔ " (فکر کی غلطی، ص ۵)
"فکر کی غلطی" کے مصنف دوسری جگہ لکھتے ہیں: وحید الدین خاں صاحب اگر زبان و ادب میں صرف حقیقت کے قائل ہیں، استعارہ، مجاز اور کنایہ اگر ان کے یہاں کوئی چیز نہیں ہے تو اپنی اس تحریر کے بعد وہ اپنے اسلام کی خیر منائیں۔ انہوں نے خدا کو دیکھنے اور چھونے کی جو بات لکھی ہے، اگر ان کے ذہن میں اس کا ظاہری مفہوم ہی ہے اور انہوں نے ان جملوں میں استعارہ، کنایہ اور تلخیص سے کام نہیں لیا ہے تو ان کے گمراہ بلکہ خارج اسلام ہونے میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا۔ (فکر کی غلطی، صفحہ ۲۶۹) "فکر کی غلطی" کے مصنف کے اس تبصرہ کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کتاب ابھی تک رسمی عقیدہ ہی کو صحیح عقیدہ مانتے ہیں اور نرم کرسیاں اور آرام دہ بستروں پر کتابوں کی ورق گردانی ہی کو ایمان باللہ کے لئے کافی سمجھتے ہیں اور اس طرح اسے اللہ تعالی کی ذات کے بارے میں روحانی واردات اور کیفیات سے کوئی علاقہ نہیں ہے۔ حالانکہ مذکورہ اقتباس میں کہی گئی بات ایمان راسخ کی ترجمانی کرتی ہے اور وہ حدیث جبرئیل کے عین مطابق ہے۔ اس حدیث کا ایک حصہ اس طرح آیا ہے: قال فأخبرني عن الاحسان قال ان تعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك (بخاری و مسلم - مشکوة، كتاب الايمان) سائل نے کہا مجھے احسان کے بارے میں بتائیے آپ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے ہو، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ احسان در اصل پورے دین کی روح ہے اور اس کی کیفیت ہر اس آدمی پر طاری ہو جاتی ہے جس کا یقین ہو کہ خدا ہماری نگاہوں سے او جھل نہیں بلکہ وہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہے اور یہ واردات اس پر گزرتی ہے جو خدا کی معرفت کے اونچے درجہ پر پہنچ چکا ہو۔ اور اس کا تجربہ اس وقت کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے جب کہ آدمی انتہائی خشوع و خضوع اور حضور قلب کے ساتھ نماز پڑھتا ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ "نماز مؤمن کی معراج ہے (الصلوة معراج المؤمن)۔ مصنف کتاب نے مذکورہ اقتباس نقل کرنے میں تلبيس سے کام لیا ہے کیوں کہ الرسالہ کے مذکورہ شمارہ ہی کے اگلے صفحہ پر یہ عبارت بھی موجود ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues