Besides abdomen they also have a special stomach
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۴۶
”خدا بلا شبہ اتنا بڑا ہے کہ وہ ہمارے مشاہدہ میں نہیں سماتا۔ مگر بلا شبہ وہ تمام چیزوں سے زیادہ ہم سے قریب ہے۔ موجودہ دنیا میں ہم خدا کو اس کی ذات میں نہیں دیکھ سکتے۔ مگر خدا کو اس کی صفات میں ہم ہر جگہ دیکھتے ہیں اور ہر وقت دیکھ سکتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں یہی خدا کو دیکھنا ہے۔ یہی خدا کو پانا خود مولانا وحید الدین خاں کی دوسری تصریحات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس قسم کے ”مشاہدہ“ کو مجاز کے معنی میں لیتے ہیں نہ کہ حقیقت کے معنی میں۔ ملاحظہ ہو موصوف کی تفسیر تذکیر القرآن کی یہ عبارت : اس دنیا میں آدمی صرف ”یاد“ کی سطح پر خدا کو پا سکتا ہے۔ وہ اس کو براہ راست ”مشاہدہ“ کی سطح پر نہیں پا سکتا۔ (تذکیر القرآن جلد اول، صفحہ ۶۵۹، الرعد آیت ۲۷ کا حاشیہ) مصنف کتاب نے اپنی اس کتاب میں ایک عنوان اس طرح قائم کیا ہے ”وحید الدین کی اقبال شناسی“ اور اس کے ذیل میں الرسالہ کے شماروں سے کئی اقتباس نقل کرتے ہوئے تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ان اقتباسات میں اقبال کی تنقید کی گئی اور ان کے افکار اور خیالات پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مصنف کتاب کے اس الزام کی صداقت کہاں تک ہے ؟ اس پر بحث کے لئے یہاں وقت نہیں۔ لیکن یہ بات عرض کرتا ہوں کہ اگر مصنف کتاب واقعی اقبال کے عاشق صادق ہیں تو خدا کے بارے میں اقبال کے درج ذیل واقعہ کے متعلق وہ کیا کہیں گے۔
اقبال کے تذکرہ سے متعلق مشہور کتاب ”روزگار فقیر“ میں یہ واقعہ چھپا ہے۔ روزگار فقیر کے مصنف نے ”وجود باری“ کے عنوان کے تحت ممتاز حسن اور علامہ اقبال کی ایک گفتگو نقل کی ہے جو انہی کے الفاظ میں یہ ہے :
”ممتاز حسن نے علامہ اقبال کو اپنی طرف متوجہ پا کر عرض کیا آپ ایک دانش ور فلسفی ہیں اور نہ صرف یہ کہ قدیم و جدید فلسفوں سے اچھی طرح آگاہ و باخبر ہیں، بلکہ آپ اپنی جگہ خود بہت بڑے مفکر ہیں، مگر اس کے باوجود آپ اپنے اشعار اور مقالات میں خدا کا ذکر غیر فلسفیانہ انداز میں کرتے ہیں۔ جہاں تک فلسفے کا تعلق ہے، امانول کانٹ کے فلسفیانہ افکار کی روشنی میں اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ محض عقل و فلسفہ کی رو سے نہ تو خدا کے وجود کا اثبات ممکن ہے اور نہ اس کی تردید۔ خدا کے بارے میں جب بھی فلسفے کی رو سے گفتگو ہوگی تو لازمی طور پر ہم وہی کہیں گے جو کانت نے کہا ہے۔ حیرت ہے کہ آپ اتنے بڑے مفکر اور فلسفی ہیں، پھر آپ کے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا کے وجود پر عقلی دلیل لانے کے بجائے خوش اعتقادی کے ساتھ اس کا ذکر کریں ؟
‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues