Al-Risala · April 2001 · page 47

Besides abdomen they also have a special stomach

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۱، صفحہ ۴۷

ممتاز حسن کے خیالات علامہ اقبال بڑی خاموشی اور ہمدردی کے ساتھ سنتے رہے۔ انہوں نے نہ تو در میان میں ٹوکا اور نہ ہی تعجب کا اظہار کیا۔ جب ممتاز حسن اپنی بات پوری کر چکے تو علامہ نے فرمایا: ”خدا کے متعلق پوچھتے ہو؟ میں نے اسے دیکھا ہے۔ “ علامہ زیر لب مسکرائے اور تھوڑے توقف کے بعد مزید فرمایا: ”انسان کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب وہ خدا کو دیکھ سکتا ہے لیکن یہ لمحے بہت کم نصیب ہوتے ہیں۔ “ اور کچھ توقف کے بعد پھر فرمایا کہ ”بہت ہی کم“۔

ممتاز صاحب نے دریافت کیا ”کیا ہر شخص کے لیے خدا کا مشاہدہ ممکن ہے؟ “ علامہ نے فرمایا ”یہ دروازہ کسی پر بند نہیں ہے۔ لیکن جو شخص مشاہدے کا طالب ہو اسے صبر اور انتظار لازم ہے۔ “ یہ ساری گفتگو انگریزی میں ہوئی تھی۔ علامہ اقبال کے اصل فقرے یہاں انگریزی میں بھی درج کیے جا رہے ہیں:

“I have seen him. There are moments in a man’s life when he can experience God”

“Such moments are, however, rare” he added a little later “very rare”

“No one is shut out but he who wants the experience has to wait for it.”

(روزگار فقیر جلد ۲، صفحہ ۳۴۵-۳۴۶، ایڈیشن ۱۹۹۲)

حقیقت یہ ہے کہ صاحب بصیرت لوگوں کی زندگیاں خدا کے بارے میں غور و فکر اور مراقبے میں گزرتی ہیں اور ان کی ذات خدائی صفات میں ڈھل جاتی ہے۔ پھر ان کی روحانی کیفیات و واردات کا کیا کہنا۔ بخاری کی ایک طویل حدیث کے یہ الفاظ لائق غور ہیں :

و ما تقرب الی عبدی احب الی مما اور میرا بندہ جن چیزوں سے میرا تقرب حاصل کرتا ہے ان افتریست عليه ولايزال عبدی میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ چیزیں ہیں جو میں نے اس يتقرب إلی بالنوافل حتی احببته فاذا پر فرض کردی ہیں اور میرا بندہ مسلسل نوافل کے ذریعہ میرا احببته كنت' سمعه الذي تقرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ میرا محبوب ہو يسمع به و بصره الذي يبصربه جاتا ہے اور جب وہ میرا محبوب ہو جاتا ہے تو میں اس کا کان

‹ Previous page Next page › Contents of April 2001 All issues

Printed page