حمیت جاہلیت
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۶
حمیت جاہلیت
قرآن (البقرہ ۱۰۶) میں اہل نفاق کا کردار بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو قا ر اس کو گناہ پر جما دیتا ہے۔ پس ایسے شخص کے لیے جہنم کافی ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے (وإذا قيل له اتق الله اخذته العزة بالاثم فحسبه جهنم، ولبئس المهاد)
اس آیت میں عزت سے مراد حثیت ہے۔ اس کی تفسیر کے تحت قرطبی نے ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک یہودی اپنی کسی ضرورت کے تحت خلیفہ ہارون رشید کے پاس ایک سال تک آتا رہا۔ مگر خلیفہ نے اس کی ضرورت پوری نہ کی، ایک دن وہ خلیفہ کے دروازہ پر کھڑا ہو گیا۔ پھر جب ہارون رشید نکلا تو وہ اس کی طرف تیزی سے بڑھا، یہاں تک کہ وہ آکر خلیفہ کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔ اور کہا کہ اے امیر المومنین اللہ سے ڈریئے۔ اس کے بعد ہارون اپنی سواری سے اترا اور سجدے میں گر پڑا۔ پھر جب اس نے اپنا سر سجدے سے اٹھایا تو یہودی کی ضرورت کو پورا کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس کی تعمیل کر دی گئی۔ جب یہودی واپس ہو گیا تو کسی نے کہا کہ اے امیر المومنین، آپ ایک یہودی کے کہنے پر اپنی سواری سے اتر گئے۔ خلیفہ نے جواب دیا نہیں بلکہ مجھے اللہ کا یہ قول یاد آگیا: واذا قيل له.... الخ (الجامع لأحكام القرآن للقرطبی ۱۹/۳) بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی معاملہ کو اپنے لیے عزت وو قار کا مسئلہ بنالیتا ہے۔ اس کو قرآن میں حمیت جاهلیہ کہا گیا ہے۔ مذکورہ واقعہ میں خلیفہ کے سامنے تقوی کی بات کہی گئی۔ جو بذات خود ایک درست بات تھی لیکن یہ بات ایک یہودی نے کہی تھی اس لئے کچھ لوگوں کے اندر یہ نفسیات ابھر آئی کہ اگر اس کو مانا گیا تو وہ یہودی کی بات کو مانا ہو جائے گا۔ مگر مومن کی سوچ یہ نہیں ہوتی مومن ہمیشہ قول کو دیکھتا ہے نہ یہ کہ اس کا قائل کون ہے۔ وہ دوسرے پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل بات کو پکڑ لیتا ہے۔ وہ اس کو غیرت وحمیت یا عزت دو قار کا سوال بنائے بغیر اس کا اعتراف کر لیتا ہے۔